غریب رکشہ ڈرائیور ظفر کیسے دو خواتین کی عزت بچاتے ہوئے اپنی دونوں آنکھیں گنوا بیٹھا؟

پشاور کے علاقے صدر میں ظفر اپنے رکشے میں دو خواتین کو لے کر جا رہا تھا کہ راستے میں چند افراد نے انہیں ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ ظفر چاہتا تو خاموشی سے وہاں سے نکل جاتا، لیکن اس نے رکشہ روکا اور ان افراد کو خواتین کو تنگ کرنے سے منع کیا۔

اس کی یہی ہمت اس پر بہت بھاری پڑ گئی۔ حملہ آوروں نے غصے میں آ کر اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ اس خوفناک حملے کے نتیجے میں ظفر اپنی دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گیا۔

ظفر خود بھی کم عمر بیٹیوں کا باپ ہے۔ شاید اسی لیے وہ کسی اور کی عزت پر حملہ ہوتے دیکھ کر خاموش نہ رہ سکا۔ اپنی بینائی کھونے کے باوجود اس نے کبھی اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار نہیں کیا۔

جب اس کی کہانی سوشل میڈیا پر سامنے آئی تو ہزاروں پاکستانی اس کی بہادری کو سلام کرنے لگے اور اس کے علاج کے لیے مالی مدد بھی جمع کی گئی۔

ظفر نے اپنی آنکھیں ضرور کھو دیں، مگر یہ ثابت کر دیا کہ کسی بے بس انسان کے لیے کھڑا ہونا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ ایسے لوگ معاشرے کے اصل سرمایہ ہوتے ہیں، جن کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں۔

Leave a Comment