
اس شخص کے 58 بچے ہیں اور ابھی اسکا سفر مکمل نہیں ہوا، اسکی 4 بیویاں ہیں اور یہ خود کو ایک امیر شخص سمجھتا ہے کیونکہ جس علاقے میں یہ رہتا ہے وہاں شادی کے وقت شوہر بیوی کے والد کو ایک موٹی رقم دیتا ہے اور یوں اسکی اولاد میں پیدا ہوئی اسکی بیٹیاں دولت کی آمد میں سرمایہ کاری ہے۔ حلانکہ اسکے بچے بنیادی تعلیم سے دور ہیں اور کچھ تو گلی بازاروں سے کچرا چن کر بقا کو بچائے ہوئے ہیں لیکن یہ شخص کہتا ہے میں تو امت کی تعداد میں اضافہ کررہا ہوں۔
اس شخص کا نام محمد صادق ہے اور یہ افغان صوبہ ارزگان کا رہائشی ہے۔ حلانکہ وہ ایک معمولی کار شو روم میں ملازمت کرتا ہے جہاں ایک کار کی فروخت پر اسے 1000 افغانی کمیشن ملتا ہے اور تنگ دستی میں زندگی گزارنے کے باوجود اسے کثیر اولادوں کا شوق ہے جس کے لئے اس نے 4 شادیاں کر رکھی ہیں اور سبھی بیویاں اسکے نکاح میں 13 سے 16 سال کی عمر میں آئی اور عموماً ہمہ وقت اسکی بیویاں حاملہ رہتی ہے اور 58 بچوں کی تعداد کے باعث اسے نہ اپنے بچوں کے نام یاد رہتے ہیں اور نہ ہی وہ انہیں بنیادی سہولیات تو دور انہیں دو وقت کا کھانا فراہم کرنے سے بھی قاصر ہیں۔
اس بڑے خاندان کے رہائشی ایک ہی مخصوص جگہ، برتن دھوتے ہیں وہی کپڑے اور حتی کہ غسل خانہ بھی اسی جگہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔
محمد صادق کے مطابق ایک بار انکی بیٹی کا نکاح ہونے لگا تو قاضی نے بیٹی کا نام پوچھا تو وہ سوچ میں پڑ گئے اور پھر بیٹی کا نام غلط بتایا لیکن جب قاضی نے دوبارہ تصدیق کے لیے اسے بیوی کے پاس بھیجا تو نام بدلنا پڑا۔۔۔
محمد صادق کے 14 بچے وفات پاچکے ہیں اور ہر رات سونے سے پہلے وہ بچوں کی باقاعدہ گنتی کرتے ہیں اور ایک رات دوران گنتی انہیں ایک بچہ کم لگا تو انہیں یاد نہیں آرہا تھا کہ کونسا بچہ کم ہے اور پھر وہ اپنی بیویوں کے باعث گئے تو پتہ چلا انکا ایک بیٹا آج اپنے ننھیال میں رکا ہوا ہے۔
صادق نے اپنی چاروں بیویاں مخصوص رقم اپنے سسرالیوں کو ادائیگی کے بعد نکاح میں ملی اور اسی رسم کو وہاں ” طویانہ” کہتے ہیں اور اب یہی معاوضہ اسے اپنی بیٹیوں کی شادی کے دوران انکے سسرالیوں سے موصول ہوگا۔۔۔
صادق کے ابھی تک 14 بچے وفات پاچکے ہیں اور باقی انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور سردیوں میں وہ ایک ہی کمبل میں 6 یا 7 بچوں کو ساتھ لیٹاتے ہیں۔
اور بچوں کو تعلیم وہ بوجہ غربت دے نہیں پارہے اور اب محمد صادق اپیل کرتے ہیں کہ انہیں حکومت، امدادی ادارے اور صاحب استطاعت افراد مدد فراہم کریں تاکہ وہ اپنے بچوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرسکیں کیونکہ فی الحال انکی بچوں کو بعض اوقات رات کو بھوکا سونا پڑتا ہے۔۔۔
یہ مضمون بی بی سی اردو سے لیا گیا اور میرے خیال میں حکومت کو سب سے پہلے اس شخص کو حفاظتی تحویل میں لینا چاہیے کیونکہ یہ امت بڑھانے کے چکر میں امت پر مزید بوجھ لاد رہا ہے اور ایسی سوچ کی باعث ہی اربوں کی تعداد میں پھیلی دہائیوں سے چند کروڑ کی تعداد سے روانہ چھترول کروا رہی ہے۔
جدید دور میں عظمت تعداد سے زیادہ مہارت اور اعلی قابلیت بشمول مسلسل جدید علوم کے لیے درکار وسائل فراہم کرنے میں ہے۔
