اعجاز درانی کی جفاؤں اور میڈم نور جہاں کی وفاؤں کی سچی کہانی۔۔۔

لندن میں اعجاز درانی کی گرفتاری اور میڈم نور جہاں کی وفاؤں کا سچا واقعہ : مشہور فلم ہیر رانجھا پاکستان میں سپر ہٹ ہو چکی تھی ، اسکی انگلینڈ میں نمائش کروانے کے لیے اعجاز درانی فلم کا پرنٹ لے کر لندن روانہ ہوئے تو فلم کے پرنٹ والے ڈبوں میں کسی نے سازش کے تحت کئی کلو من ۔شیات رکھ دی ۔اعجاز درانی نہ تو من۔ شیات کے رسیا تھے اور نہ ہی انہیں مال و دولت کی کمی تھی چنانچہ ان سے ایسی حرکت منسوب کرنا بالکل غلط ہے ، خیر یہ لندن پہنچے تو ائیر پورٹ پر انکے سامان کی تلاشی ہوئی اور من۔ شیات برآمد ہو گئی چنانچہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ، ان پر کیس چلا ااور بظاہر شواہد کی وجہ سے عدالت نے انہیں 4 سال قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا ، اب اعجاز درانی لندن کی ایک جیل میں تھے اور اس وقت انہیں میڈم نور جہاں سے طلاق ہوئے کئی سال گزر چکے تھے مگر جب میڈم نور جہاں کو اعجاز درانی کے انگلینڈ کی ایک جیل میں ہونے کا پتہ چلا تو وہ پہلی فرصت میں لندن پہنچ گئیں ۔ میڈم ان دنوں کہا کرتیں کیا ہوا اگر وہ مجھے چھوڑ گیا ، میرے بچوں کاباپ ہے میں اپنی بیٹیوں کے باپ کو مشکل میں تنہا کیسے چھوڑ دوں ؟ میڈم کے بعد جو شخصیت لندن میں اعجاز درانی کی خاطر پھرتی رہی وہ فردوس بیگم تھیں ، میڈم نور جہاں اور فردوس نے ہر ممکن کوشش کی کہ اعجاز درانی کی ضمانت ہو یا انہیں رہا کروا لیا جائے مگر ایسا نہ ہو سکا لیکن دونوں خواتین ہر روز اعجاز درانی سے ملاقات کے لیے جیل کے دروازے پر پائی جاتیں ، اگرچہ ان دونوں کی آپس میں بول چال نہیں تھی لیکن اعجاز درانی سے ملاقات کے لیے میڈم نور جہاں اور فردوس دونوں کی کوشش ہوتی کہ صبح صبح جیل کے دروازے پر پہنچ کر اپنا نام ملاقاتیوں کی فہرست میں لکھوا دے ۔۔۔۔۔ اپنی سزا پوری کرکے اعجاز درانی واپس لاہور آئے تو فردوس بیگم دیکھتی رہ گئیں اور اعجاز درانی نے ایک اور خاتون سے شادی رچا لی ،
میڈم نورجہاں نے اگر زندگی میں کسی مرد سے عشق کیا تو وہ اعجاز درانی تھے،
الیاس راشدی اور آفاقی کے مطابق اعجاز سے نکاح کے بعد ہم نے ایک نئی نور جہاں دیکھی ، وہ بہت شائستہ ہوگئیں تھیں،
اعجاز کی خاطر انہوں نے اپنی انا تک کو روند ڈالا تھا
امورِ خانہ داری میں دلچسپی لینے لگی تھیں، اعجاز کے کپڑے خود استری کرتی تھیں ،کھانا خود بناتی تھیں،حتی کہ اعجاز کے جوتے تک خود پالش کیا کرتیں تھیں ، اعجاز کام سے باہر
جانے لگتے تو ہاتھ پکڑ کر گاڑی تک خود چھوڑ آتیں،
نمازیں پڑھتیں ، درباروں پر نیازیں تقسیم کرتیں ،وہ اعجاز کو لیکر بہت خوش تھیں ،محافل میں سب کے روبرو اعجاز کا ہاتھ تھام کر بیٹھ جاتیں ،
پھر جب اعجاز درانی، فردوس کے عشق میں گرفتار ہوئے تو نور جہاں نے اُن پر کڑی نظر رکھنے لگیں ، سیٹ پر کئی بار چھاپے لگاتیں ، اعجاز سے لڑتیں ،جھگڑتیں اور بعض مرتبہ انکے کاندھے پر سر رکھ کر رو دیتیں ،
انہوں نے اپنا گھر بچانے کی بہت کوشش کی مگر بے سود ۔۔۔۔

Leave a Comment