حناشاہین اچانک کیوں شوبز کی دنیا سے غائب ہوگئیں؟

پاکستانی کمرشل سینما اور اسٹیج کا وہ دور آج بھی ان کے ہمداحوں کے دلوں میں روشن ہے، جب فن کی دنیا میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جنہوں نے اپنے زورِ بازو اور بے پناہ صلاحیتوں سے اپنا نام پیدا کیا۔ اسی دور کی دو انتہائی بااثر، دلکش اور تابناک شخصیات صائمہ نور اور حنا شاہین کے نام ہیں، جن کی جوڑی اور کیمسٹری نے سلور اسکرین سے لے کر اسٹیج کے پلیٹ فارم تک ایک انمٹ نقش چھوڑا۔ جہاں صائمہ نور نے اپنی ورسٹائل، اور مضبوط ہیروئن والی اداکاری سے فلمی دنیا کے ایوانوں پر طویل راج کیا، وہیں حنا شاہین نے اپنی بجلی جیسی لرزہ خیز اور پرجوش ڈانس پرفارمنسز سے ناظرین کے دلوں کو موہ لیا اور “اسٹیج کوئین” کا اعزاز اپنے نام کیا ۔ جب یہ دونوں فنکارائیں ہائی انرجی میوزیکل سیکوینسز میں ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی تھیں، تو دیکھنے والے دنگ رہ جاتے تھے
یہ نوے کی دہائی اور دو ہزار کی ابتدائی برسوں کا وہ زمانہ تھا جب گلیمر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ عروج پر تھا، اور ان دونوں کی شاندار ہم آہنگی نے ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا۔ ان کے مشترکہ کام اور لازوال پرفارمنسز نے پنجابی سینما کی ثقافتی شناخت کو ایک بالکل نئی اور منفرد جہت عطا کی، جہاں روایتی مشرقی حسن کو نئے انداز اور تھیٹر کی شاندار جمالیات کے ساتھ اس سلیقے سے پیش کیا گیا کہ دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ گئے۔ فلموں، ڈراموں اور اسٹیج کی اس دنیا نے حنا شاہین کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا اور انہوں نے اس دور میں بے پناہ دولت اور نام کمایا۔ مگر اس چمک دمک اور چکاچوند کے پیچھے ایک ایسا دل دھڑک رہا تھا جو دولت سے کہیں زیادہ انسان دوستی اور دردِ دل سے آشنا تھا۔
اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ حنا شاہین نے اپنی کمائی ہوئی دولت کا ایک بڑا حصہ کہاں لگایا، تو آپ بھی سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ حنا شاہین درجنوں ایسی غریب اور یتیم بچیوں کی شادیاں اپنے ذاتی خرچ پر باقاعدگی سے کروا چکی ہیں جن کے سر پر کوئی سایہ نہیں تھا اور جو معاشرے کے پسماندہ کونے میں زندگی گزار رہی تھیں۔ گناہ اور ثواب کا اصل معاملہ تو اللہ اور انسان کے درمیان کا راز ہے، حنا نے اپنی شہرت کو صرف اپنے ذاتی عیش و آرام تک محدود نہیں رکھا، بلکہ کتنے ہی گھروں کے اجڑے دیے جلائے اور کتنی ہی غریب بیٹیوں کو ماں کی شفقت اور حفاظت جیسی خوشیاں دیں۔
پھر زندگی نے ایک اور خوبصورت اور فیصلہ کن موڑ لیا۔ سال 2015 کا وہ وقت آیا جب حنا شاہین اپنے فنی کیریئر کے بالکل عروج پر تھیں، جب ایک ایک اسٹیج ڈرامے کے لیے ان کا معاوضہ لاکھوں روپے میں طے پاتا تھا اور وہ چاہتیں تو اس شہرت کی چکاچوند میں مزید کئی سال کاٹ سکتیں، مگر انہوں نے ایک بڑا اور پختہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے شوبز کی اس رنگین دنیا کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا اور اپنی مرضی سے پسند کی شادی کی۔ ان کے اور ان کے جیون ساتھی کے درمیان تمام معاملات اور زندگی کی انڈرسٹینڈنگ بہت خوبصورتی اور پختگی کے ساتھ طے پائے۔ انہوں نے اپنے عروج، اپنی شہرت اور لاکھوں کے معاوضوں کو ایک طرف رکھ کر اپنی گھریلو، پرسکون اور ازدواجی زندگی کو ترجیح دی۔

ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment