
یہ میاں نواز شریف اور اُن کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز ہیں جن کی شادی 2 اپریل 1971 کو ہوئی تھی، جب نواز شریف نے ابھی عملی سیاست میں قدم بھی نہیں رکھا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کلثوم نواز کسی سیاسی خاندان کے بجائے لاہور کے ایک تعلیم یافتہ کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ اُن کے والد محمد حفیظ بٹ ڈاکٹر تھے، جبکہ اُن کے نانا برصغیر کے مشہور پہلوان رستمِ زماں گاما پہلوان تھے۔ کلثوم نواز نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹرز کیا تھا اور ادب سے خاص شغف رکھتی تھیں۔ شادی کے بعد اُن کے ہاں چار بچے ہوئے، حسین، حسن، مریم اور اسماء۔ کلثوم نواز زیادہ تر گھریلو زندگی تک محدود رہیں، لیکن 1999 میں جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کرکے اُنہیں گرفتار کیا تو یہی کلثوم نواز سیاسی میدان میں نکل آئیں اور مسلم لیگ نون کی قیادت سنبھالی۔ 2017 میں دونوں نے اپنی شادی کی چھیالیسویں سالگرہ منائی، جس کی تصاویر مریم نواز نے سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ پھر 11 ستمبر 2018 کو کلثوم نواز لندن میں انتقال کرگئیں اور تقریباً نصف صدی پر محیط ازدواجی رفاقت اختتام کو پہنچی۔ محترمہ کلثوم نواز شریف شہید صاحبہ
بیگم کلثوم نواز شریف کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں جس دور میں سیاست کی ذمہ داری دی گئی، وہ ملک کی تاریخ کا انتہائی مشکل وقت تھا۔ جب 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے فوجی انقلاب کے ذریعے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور نواز شریف کو جیل میں ڈال دیا، تو اس وقت سینئر قیادت یا تو پابند سلاسل تھی یا خوفزدہ۔ یہی وہ موقع تھا جب ایک گھریلو خاتون نے میدان سنبھالا اور آمریت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔
انہوں نے پارٹی کی قیادت سنبھالتے ہوئے مشرف کے مارشل لاء کو چیلنج کیا اور 1999ء سے 2002ء تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدر رہیں۔ ان کی سیاسی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس وقت کی حریف جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تاکہ جمہوریت کی بحالی کے لیے متحدہ محاذ بنایا جا سکے۔
ان کی جدوجہد صرف تقاریر تک محدود نہ تھی، بلکہ انہیں عملی طور پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک موقع پر پولیس نے ان کی رہائش گاہ کا محاصرہ کیا اور انہیں گاڑی سمیت کرین کے ذریعے اٹھا لیا گیا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور سیاسی حکمت عملی کے تحت مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے جاری رکھے۔ ان کی اس مسلسل جدوجہد اور دباؤ ہی کا نتیجہ تھا کہ جنرل مشرف کو نواز شریف اور ان کے بھائی کو رہا کر کے جلاوطن کرنا پڑا۔ اسی عظیم جدوجہد کی بنا پر انہیں “مادرِ جمہوریت” کا لقب دیا گیا۔
بیگم کلثوم نواز ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں، انہوں نے اردو ادب میں ماسٹرز اور فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ بعد ازاں جب 2017ء میں نواز شریف کو نااہل کیا گیا تو اس وقت وہ گلے کے کینسر کے مرض سے لڑ رہی تھیں، لیکن اس مشکل وقت میں بھی وہ سیاست میں واپس آئیں اور عوامی رابطہ مہم چلائی۔ ان کی جمہوریت، آئین کی بالادستی اور انسانی آزادی کے لیے یہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی
