
گورے گورے مکھڑے دل کالے کالے : دبئی میں ایک عورت کی خون پسینے کی کمائی کھا کر غائب ہو جانے والے دو پاکستانی سگے بھائیوں کی سچی کہانی : ایک محنت کش عورت اگر کلمہ پڑھ کر قسم کھائے تو اسکی باتوں کا یقین کرنا لازم ہے ۔۔۔۔۔ داجل کے رہائشی کریم نواز اور اسکے بھائی ارسلان شاہین کے چند مزید کرتوت ۔۔۔ متاثرہ مسلم انڈین خاتون قمر النساء کے بقول ۔۔۔ یہ سارا خاندان ہی فراڈیا اور بھیک منگا تھا ، کرونا کے بعد بائیک رائیڈر کریم نواز سے ملاقات ہوئی ، میں ایک اچھے اور باوفا شریک حیات کی تلاش میں تھی ، اپنی دو بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہو چکی تھی اور اب اپنی زندگی جینا چاہتی تھی ، میں دبئی میں سالہا سال سے شیف کے طور پر کام کرتی ہوں مجھے کریم نواز نے اپنی باتوں میں پھنسا لیا اور ایک مسجد کے سامنے بیٹھ کر قسم کھائی کہ اس مسجد کی قسم میں زندگی بھر تمہارا ساتھ نبھاؤنگا ، میں نے اسکے وعدے اور اسکی قسم پر اعتبار کر لیا میں نے اسے مالی طور پر سپورٹ کیا تاکہ وہ بائیک رائیڈر کی بجائے کوئی اچھا کام کرے اسے خود پیسہ لگا کر ویزہ کمپنی کھول کر دی ۔ اسکا کھانے پینے رہائش اور دیگر اخراجات کا ذمہ بھی اٹھا لیا ،میں معصوم تھی سوچا میراہونیوالا شریک حیات ہے اور میرا محبوب ہے اسکی خدمت کرنا میرا فرض ہے ، کچھ عرصہ بعد کریم نواز نے مجھے کہا میرا بھائی پاکستان میں فارغ پھر رہا ہے اسکے لیے ویزا ارینج کردو ، اپنے تعلقات سے میں نے اسکے بھائی کو بھی ویزہ دلوایا دبئی بلایا اسے چھوٹا بھائی سمجھ کر کام شروع نہ ہونے تک خرچہ دیتی رہی اسکے کھانے پینے اور کپڑوں پر پیسہ خرچ کرتی رہی , بار بار شادی کی بات کرتی اور وہ بس کچھ دن ، بس کچھ ہفتے میں ذرا سیٹ ہو جاؤں کہہ کر ٹالتا رہا ، 2019 سے لیکر 2025 تک ان دونوں بھائیوں پر میں نے لاکھوں درہم خرچ کر ڈالے ، حد تو یہ ہے کہ ایک بار کریم نواز کی ماں اور بہنوں نے مجھے ویڈیو کال پر فرمائش کی کہ ہمارا گھر کچا ہے تم ہماری ہونیوالی بہو ہو تمہیں نہیں کہیں گے تو اور کسے کہیں گے ، میں نے بغیر سوچے انکے گھر کے لیے پیسے کریم کے حوالے کردیے ، آخری بار پاکستان جاتے ہوئے بھی وہ مجھ سے 18 ہزار درہم نقد کیش لے کر چلا گیا اور پھر اسکا میرے ساتھ رابطہ ختم ہو گیا ، میں نے لاکھ کوشش کی لیکن کچھ پتہ نہ چلا ، آخر کریم نواز کے کچھ دوستوں سے پتہ چلا کہ اس نے پاکستان میں شادی کر لی ہے ۔ پھر میں نے سوشل میڈیا پر بولنا شروع کردیا ، مجھ پر تنقید بھی ہوئی لوگوں نے مجھے بیوقوف بھی کہا اور نجانے کیا کچھ لیکن میرا اللہ جانتا ہے میرے دل میں کتنا خلوص تھا ۔ اسی خلوص نے مجھے مروا ڈالا، میرے سوشل میڈیا پر شور مچانے کے نتیجے میں کریم نواز پھر دبئی آیا اس نے مجھ سے ملاقات کی اور اپنے کیے کی معافی مانگی وہ اب بھی مجھے رکھیل بنا کر رکھنا چاہتا تھا ، اگر وہ شادی کرتا تو میں اسکی دوسری بیوی بننے کو تیار تھی کیونکہ میں نے اس سے محبت کی تھی ، میں بہت گناہ گار سہی لیکن ایک مشرقی اور مسلمان لڑکی ہوں کیسے گناہ گار بنی رہتی ، اب میں اس پر اعتبار کرنے اور پیسہ خرچ کرنے کو تیار نہ ہوئی اور اسے کہا کہ اگر مجھ سے محبت ہے تو ثابت کرو مگر وہ پھر دم دبا کر بھاگ گیا اور اب دبئی میں ہونے کے باوجود اسکا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ۔۔۔۔ میں واضح کرنا چاہتی ہوں مجھے اپنے کروڑوں روپے کے مالی نقصان کی پروا نہیں ، میرے اللہ نے مجھے اسکے جانے کے بعد بھی اتنا نوازا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی میں آج بھی محنت کررہی ہوں کمارہی ہوں مگر میرے دل سے ہر سانس کے ساتھ اس بے غیرت شخص کے لیے بددعا نکلتی ہے جسکا نام کریم نواز ہے اور اسکا تعلق پاکستان سے ہے ۔ اس شخص نے میری زندگی کے قیمتی ترین سال ضائع کردیے اور محبت کے نام پر مجھے ایسا دھوکہ دیا کہ آج دبئی میں رہنے اور سب کچھ ہونے کے باوجود میں اندر سے خالی ہوں لگتا ہے میرے پاس کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ کریم نواز میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی ۔۔۔ دبئی مقیم معروف انڈین شیف قمر النساء کی باتیں ۔۔۔۔۔۔
