
پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور اور سدا بہار ولن اداکار ادیب کا اصل نام مظفر احمد (بعض جگہ مظفر ادیب) تھا۔ وہ 4 اکتوبر 1928ء کو بمبئی میں پیدا ہوئے。 ان کا تعلق ریاست جموں و کشمیر کے ایک قدامت پسند پٹھان خاندان سے تھا، جو قیامِ پاکستان سے قبل روزگار کے سلسلے میں کشمیر سے بمبئی منتقل ہو گیا تھا، جہاں ان کے والد نے لکڑی کا کاروبار شروع کیا۔ ادیب کو بچپن سے ہی کاروبار کے بجائے آرٹ اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا، چنانچہ انہوں نے بمبئی یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی。 تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز اداکاری کے بجائے ایک تھیٹر کمپنی سے بطور اسکرپٹ رائٹر کیا۔ بعد میں انہیں برصغیر کے لیجنڈ اداکار راج کپور کے والد پرتھوی راج کپور کے مشہور ‘پرتھوی تھیٹر’ میں بطور اسکرپٹ رائٹر اور پھر ‘انڈین نیشنل تھیٹر’ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر تین سال تک کام کرنے کا موقع ملا، جہاں انہوں نے اداکاری کے بنیادی گر سیکھے。
بھارت میں قیام کے دوران انہوں نے تقریباً 30 سے 38 فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا باقاعدہ آغاز 1949ء میں بھارتی فلم ‘مہندی’ سے کیا。 ان کی پہلی بڑی کامیابی ضیاء سرحدی کی فلم ‘فٹ پاتھ’ (1953ء) تھی، جس میں وہ دلیپ کمار اور مینا کماری جیسے بڑے ستاروں کے ساتھ نظر آئے。 اس کے بعد انہوں نے مشہور پروڈیوسر ایس ایم یوسف کی فلم ‘پاک دامن’ (1956ء) میں ولن کا مرکزی کردار ادا کیا، جس نے ان کے مستقبل کے لیے ایک بہترین ولن کا راستہ متعین کر دیا。 اس کے علاوہ انہوں نے بھارت میں ‘زبک’، ‘ریمبو’ اور ‘سمپورن نارائن’ جیسی فلموں میں بھی کام کیا。 1962ء میں ہدایت کار اکبر علی اکو اور اپنے قریبی دوست ایس ایم یوسف کے بیٹے اقبال یوسف کے اصرار پر وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور لاہور کو اپنا مسکن بنا لیا.
پاکستان آنے کے بعد ان کی پہلی فلم ‘دال میں کالا’ (1962ء) تھی، جس کے ڈائریکٹر اقبال یوسف تھے。 اس کے بعد ادیب نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر میں 500 سے زائد اردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کی。 انہوں نے اپنے دور کے تمام بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں محمد علی، وحید مراد، ندیم، اور سلطان راہی شامل ہیں。 اداکار محمد علی کے ساتھ ان کی گہری دوستی تھی اور دونوں نے ‘کنیز’، ‘عادل’، ‘محل’، ‘ناز’، ‘آنسو بن گئے موتی’، ‘دشمن’ اور ‘حیدر علی’ جیسی بے شمار کامیاب فلموں میں ایک ساتھ کام کیا، جبکہ 1987ء میں آنے والی فلم ‘راکی دادا’ ان دونوں کی آخری مشترکہ فلم تھی。 پنجابی فلموں میں سلطان راہی کے مدمقابل فلم ‘مولا جٹ’ (1979ء) میں ان کا نبھایا گیا ‘ماکھا نت’ کا کردار اور فلم ‘وحشی گجر’ ان کے کیریئر کے یادگار ترین کردار بن گئے。 ادیب روایتی ولن کے بجائے ہر رنگ کے منفی کرداروں میں جیسے کہ ظالم باپ، بے رحم جاگیردار، دھوکے باز بھائی یا مکار دوست کے روپ میں اپنی جاندار آواز اور مخصوص انداز کی وجہ سے بے حد پسند کیے جاتے تھے。 فلموں کے علاوہ انہوں نے تقریباً 50 اسٹیج ڈراموں اور چند ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا، جن میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامے میں ان کا ‘سر سید احمد خان’ کا کردار بہت سراہا گیا。 ان کے فلمی سفر کی آخری فلم سید نور کی سپر ہٹ فلم ‘مجاجن’ (2006ء) ثابت ہوئی۔
لیکن اسی سال ایک ایسا دردناک واقعہ بھی پیش آیا کہ جب انہیں بیماری کی وجہ سے بستر مرگ پر سسکنا پڑا۔ واقعہ سنانے والے لاہور کے ہی ایک آرٹسٹ لکھاری اکرم کاکا ہیں ان کے مطابق ادیب کے جنازے میں صرف ۹ لوگ شریک تھے۔ یہ واقعہ کریم بلاک قبرستان کا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ سال 2006 میں ہی ان کی فلم مجاجن باکس آفس پر ہیوی بزنس کرچکی تھی۔ اس میں شان، سید نور، صائمہ جیسے نام تھے۔ اور بقول اکرم کاکا ان فنکاروں میں سے کوئی بھی اس فنکار کے جنازے میں شریک نہ ہوا۔
اگر ان کی ذاتی زندگی کا ذکر کیا جائے تو ادیب نے زندگی میں تین شادیاں کیں ان کی ایک شادی مشہور اداکارہ تانی بیگم سے بھی ہوئی تھی، تاہم یہ شادی کامیاب نہ رہ سکی اور باہمی اختلافات کے باعث دونوں میں طلاق ہو گئی، لیکن طلاق کے بعد بھی ان کے آپس میں اچھے تعلقات رہے۔ ادیب کی اولاد میں صرف ایک بیٹا ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر معذور ہے۔ زندگی کے آخری ایام میں ادیب دل اور گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو گئے تھے۔ مئی 2006ء میں انہیں دل کا دورہ پڑنے کے بعد پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) لاہور میں داخل کروایا گیا، جہاں ایک ہفتہ زیرِ علاج رہنے کے بعد، 26 مئی 2006ء کو تقریباً 77 سال کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے。 ان کی وفات سے پاکستان فلم انڈسٹری میں جاندار ولن اداکاری کا ایک سنہرا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن یوٹیوب فیس بک ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں۔ ناشر پر اس پوسٹ سے قارئین کی جانب سے کسی بھی قسم کی کوئی قانونی و اخلاقی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی
