یتیم بچے کو کچلنے کے بعد وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنیوالے والے ٹھیکیدار کو روک کر رکھنے اور اس پر مقدمہ کروانے والے سید نسیم شاہ۔۔۔

ایک یتیم بچے کی زندگی کی اختتام ہو گیا، مگر موقع پر موجود ایک شہری نے اس کے لیے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ 19 اکتوبر 2026 کو ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تقریباً 15 سالہ وسیم عباس گاڑی کی ٹکر سے جان کی بازی ہار گیا۔ پولیس کے مطابق بچہ کام کی جگہ سے بھاگا تھا اور ٹھیکیدار توقیر نذیر اپنے ساتھی کے ہمراہ گاڑی میں اس کا تعاقب کر رہا تھا۔ الزام ہے کہ اسی دوران گاڑی سے اسے ٹکر مار کر کچل دیا گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی بچے کو بھاگتے اور گاڑی کو اس کے پیچھے آتے دیکھا جا سکتا ہے۔

وسیم کا تعلق مظفرگڑھ سے تھا اور وہ ایک یتیم خانے میں رہتا تھا۔ اسے واقعے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ اسی واقعے میں سید نسیم کا کردار توجہ کا مستحق ہے۔ ان کے بیان کے مطابق، گاڑی چلانے والا شخص وہاں سے جانا چاہتا تھا، لیکن انہوں نے اسے روکے رکھا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے بھی کوشش کی۔ کسی اجنبی بچے کے ساتھ پیش آنے والے ظلم پر موقع پر کھڑے رہنا اور قانونی کارروائی کے لیے آواز اٹھانا ایک اہم شہری ذمہ داری ہے۔

قانونی طور پر مقدمہ تھانہ ڈی ایچ اے میں پولیس کی مدعیت میں درج ہوا، جس میں توقیر نذیر اور امجد علی کو نامزد کیا گیا۔ اس لیے سید نسیم کی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ مقدمے کی باقاعدہ مدعی پولیس ہے۔ واقعے کی تحقیقات اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

وسیم اب واپس نہیں آسکتا، لیکن اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی سچائی سامنے لانے میں ہر درست گواہی اہم ہے۔ سید نسیم سمیت ان تمام لوگوں کا کردار قابلِ قدر ہے جو اس بچے کے لیے سامنے آئے۔ ہماری دعا ہے کہ وسیم کے اہلِ خانہ کو انصاف ملے اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

Leave a Comment