
جب تقسیم ہوئی تو اس وقت میری داڑھی میں سفید بال آنا شروع ہو چکے تھے ، میری پیدائش 1874 کی ہے اور اس وقت میری عمر 150 سال کے قریب ہے ۔۔۔۔ گوجرانوالہ ، نوشہرہ ورکاں کے گاؤں ماڑی بھنڈراں کے بابا محمد رمضان باجوہ کا دعویٰ ۔۔۔۔۔ بابا رمضان اس گاؤں کے جدی پشتی رہائشی ہیں اور انکا کہنا ہے کہ جب تقسیم ہوئی اور سکھ و ہندو یہاں سے جانے لگے تو بابا جی اور انکے گاؤں کے دیگر مسلمان جوان مرد سکھ ہندو مردوں عورتوں کو خود گھیرے میں لے کر شہروں تک چھوڑ کر آئے کہ وہ وہاں ٹرکوں یا ٹرینوں میں بیٹھ کر انڈیا چلے جائیں ، بابا رمضان کا دعویٰ ہے کہ اس زمانے میں بلاکا سنگھ منگل سنگھ اور رام سنگھ اس علاقے کے سب سے بڑے زمیندار تھے ، اسکے علاوہ بوٹا شاہ نامی ایک کھتری سیٹھ بڑا دیالو تھا وہ اپنے گھوڑے پر رقم کا تھیلہ بھر کر دس گاؤں پھرتا تھا کہ کسی کی کوئی ضرورت ہو تو وہ پوری کردے ، اس سیٹھ کا اعلان تھا جسے خدا توفیق دے وہ واپس کر دے جس کی گنجائش نہ ہو اسے معاف ہے ۔۔۔۔ بابا رمضان کے بقول عیدا ماچھی اور محمد حسین کشمیری اس دور کے مشہور پہلوان تھے ۔۔ بابا رمضان نے بتایا کہ اس علاقے کے کچھ بااثر مسلمانوں نے سکھوں اور ہندوؤں پر بہت ظلم کیا سینکڑوں مردوں عورتوں اور بچوں کو مارا مگر مسلمانوں کی اکثریت ایسی تھی جو ان مظلوموں کو بچاتے رہے انہیں پناہ دیتے رہے اور اپنی حفاظت میں انہیں قریبی بڑے شہروں تک چھوڑ کر آتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔ علاقے کے لوگ بتائیں عمر کے حوالے سے بابا رمضان کے دعوے میں کتنی صداقت ہے اگر انکی عمر واقعی 150 سال ہے تو انہیں دنیا کا سب سے طویل عمر زندہ انسان قرار دیا جانا چاہیے ۔۔۔۔۔
