ایک 96 سالہ سکھ ماں جی نے کیسے 1947 کی تقسیم میں اپنا چھوڑا ہوا گھر واپس پاکستان آتے ہی پہچان لیا۔۔۔

کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں وقت بھی ختم نہیں کر پاتا۔ انسان کی عمر گزر جاتی ہے، چہرے بدل جاتے ہیں، بستیاں نئی شکل اختیار کر لیتی ہیں، مگر بچپن اور جوانی کی یادیں دل کے کسی کونے میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک ناقابلِ فراموش داستان بزرگ سکھ خاتون بیبے اجیت کور اٹوال کی ہے، جو 1947 میں تقسیمِ ہند کے دوران اپنا ہنستا بستا گھر، گلیاں، رشتے دار اور اپنی جنم بھومی چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔ اس وقت ان کی عمر صرف 27 سال تھی۔ انہیں شاید کبھی اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس گھر کو وہ چھوڑ کر جا رہی ہیں، اسے دوبارہ دیکھنے کے لیے زندگی کے 70 طویل سال انتظار کرنا پڑے گا۔

یہ واقعہ ضلع فیصل آباد کے گاؤں چک نمبر 246 گ ب سکھیرہ کا ہے، جو سمندری سے گوجرہ جانے والی سڑک پر واقع ہے۔ تقسیم کے وقت اس گاؤں میں اجیت کور کا خاندان آباد تھا۔ ان کی شادی بھی یہیں ہوئی تھی اور ان کی زندگی کی بے شمار یادیں اسی گھر کی دیواروں سے وابستہ تھیں۔ 1947 کی ہجرت کے دوران انہیں اپنے چار سالہ بیٹے کے ساتھ یہ گاؤں چھوڑنا پڑا۔ وقت گزرتا گیا، بیٹا جوان ہوا، پھر اس کے بچے بھی بڑے ہو گئے، لیکن اجیت کور کے دل سے پاکستان میں واقع اپنا پرانا گھر اور گاؤں کبھی محو نہ ہو سکا۔

بالآخر تقریباً 70 سال بعد وہ تاریخی لمحہ بھی آ گیا جب 97 سالہ بیبے اجیت کور اپنے بیٹے چرنجیت پنوں، پوتے ڈاکٹر دلویر پنوں اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ پاکستان پہنچیں۔ ان کے خاندان کے کئی افراد امریکہ میں مقیم تھے، لیکن وہ اپنی بزرگ ماں اور دادی کو ان کی زندگی کی سب سے قیمتی یاد، یعنی ان کا پرانا گھر دکھانے کے لیے پاکستان لے کر آئے تھے۔ یوٹیوب چینل Desi Infotainer کے میزبان ناصر ڈھلوں نے اس تاریخی واپسی کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔

جب بیبے اجیت کور اپنے آبائی گاؤں پہنچیں تو وہاں کے لوگوں نے ان کا ایسا استقبال کیا جیسے کوئی بچھڑا ہوا اپنا کئی دہائیوں بعد واپس لوٹ آیا ہو۔ مقامی افراد ان کے ہاتھ تھام کر انہیں سہارا دیتے ہوئے گاؤں کی گلیوں سے گزارنے لگے۔ بزرگ، نوجوان، خواتین اور بچے ان سے ملنے کے لیے جمع ہو گئے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود اس بزرگ خاتون کو اپنی پرانی گلی اور گھر کی پہچان تھی۔

اس پوری داستان کا سب سے جذباتی لمحہ وہ تھا جب اجیت کور اپنے پرانے گھر کے صحن میں پہنچیں اور 70 سال پرانی یادوں کے دروازے کھلنے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعی ان کا اپنا گھر تھا، جو باپو سوہن سنگھ کا تھا، جبکہ ساتھ والا گھر کشن سنگھ کا تھا۔ پھر انہوں نے گھر کے ایک دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان کی شادی ہوئی تھی تو ان کی ڈولی اسی دروازے سے اندر آئی تھی۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک خاتون جس گھر سے جوانی میں بچھڑی ہو، وہ بڑھاپے میں تقریباً ایک صدی کی عمر کو پہنچ کر اسی دروازے کے سامنے بیٹھی اپنی شادی کا دن یاد کر رہی ہو!

اجیت کور کو اپنے گھر کی بناوٹ تک یاد تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر کا صحن بہت کھلا ہوا تھا اور وہاں چھ کمرے تھے، جن میں سے پانچ ان کے خاندان کے استعمال میں تھے جبکہ ایک کمرہ ان کی ساس کا تھا۔ انہیں یہ بھی یاد تھا کہ گاؤں میں ایک گردوارہ موجود تھا اور ان کا میکہ تقریباً چار پانچ میل دور جگدیو نامی گاؤں میں تھا۔ وہ اپنی بڑی بہن، پھوپھی اور خاندان کے دوسرے افراد کے گھروں کو بھی یاد کرنے لگیں۔ انہیں اپنے رشتے داروں کی حویلیاں، ان کے دروازے اور گلیوں کی ترتیب تک یاد تھی۔ انہوں نے اپنے پھوپھا سوہن سنگھ اور بھتیجے ہرنام سنگھ کا ذکر بھی کیا، جو مشہور حکیم تھے اور تقسیم کے بعد جالندھر منتقل ہو گئے تھے۔

اس موقع پر ان کے بیٹے چرنجیت پنوں نے بھی اپنی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب 1947 میں وہ اس گاؤں سے گئے تھے تو ان کی عمر صرف چار سال تھی، لیکن اتنی کم عمری کے باوجود انہیں اس گلی کے بعض راستے آج بھی یاد تھے۔ انہوں نے وہ جگہ بھی پہچانی جہاں دو گھروں کے درمیان ایک چھوٹا سا کمرہ موجود تھا، جس میں ان کی پڑدادی رہتی تھیں اور دونوں گھروں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ یہ منظر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ انسان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، بچپن کی کچھ تصویریں اس کی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہتی ہیں۔

ملاقات کے بعد جب اجیت کور اور ان کے خاندان کی واپسی کا وقت آیا تو پورا گاؤں انہیں الوداع کہنے کے لیے گلیوں میں نکل آیا۔ چرنجیت پنوں اور ڈاکٹر دلویر پنوں نے مقامی بزرگوں اور اسکول کے بچوں سے ملاقات کی اور انہیں گلے لگایا۔ جب اجیت کور گاڑی میں بیٹھیں تو گاؤں کی خواتین ان کے قریب آئیں اور بڑے پیار اور محبت سے انہیں رخصت کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن میں سے بیشتر نے اجیت کور کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، لیکن اس کے باوجود ان کے رویے میں اپنائیت اور احترام صاف محسوس ہو رہا تھا۔

اس یادگار دورے کے بعد فیصل آباد میں چرنجیت پنوں کے اعزاز میں ایک ادبی تقریب بھی منعقد کی گئی۔ چرنجیت پنوں خود ایک ادیب اور لکھاری ہیں۔ تقریب میں مقامی میزبانوں نے بتایا کہ ان کی تحریروں میں فیصل آباد اور اپنی آبائی مٹی سے محبت نمایاں نظر آتی ہے۔ چرنجیت پنوں نے بھی اپنی کتاب سے ایک جذباتی اقتباس پڑھ کر سنایا، جس میں سرحدوں کے باعث بچھڑنے والے خاندانوں، بزرگوں اور ان کی جدائی کے درد کا ذکر تھا۔ تقریب میں خوشی کا کیک بھی کاٹا گیا اور روایتی گیت بھی پیش کیے گئے۔

اس پوری کہانی کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اجیت کور 27 سال کی عمر میں جس گھر کو چھوڑ کر گئی تھیں، 70 سال بعد تقریباً 97 برس کی عمر میں واپس آ کر اس کا دروازہ، صحن، کمرے اور اپنے خاندان کی پرانی رہائش گاہوں کی نشانیاں تک یاد کر رہی تھیں۔ ان کی زندگی کے سات عشرے بھارت میں گزر گئے، ان کی اولاد اور اگلی نسلیں دنیا کے دوسرے ممالک تک پہنچ گئیں، لیکن ان کے دل میں اپنے آبائی گاؤں کی محبت ویسی ہی برقرار رہی۔

1947 کی تقسیم نے لاکھوں انسانوں کو اپنی جنم بھومی، گھروں اور رشتوں سے جدا کیا تھا۔ اجیت کور کی یہ واپسی انہی لاتعداد بچھڑے ہوئے انسانوں کی یاد دلاتی ہے، جن کی آنکھوں میں عمر بھر اپنے پرانے گھروں کو ایک بار پھر دیکھنے کی خواہش زندہ رہی۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں زندگی اپنی جنم بھومی کی طرف دوبارہ لوٹنے کا موقع دے دیتی ہے۔ سرحدیں ملکوں کو تقسیم کر سکتی ہیں، لیکن انسان کے دل سے اس کی مٹی کی محبت اور بچپن کی یادیں کبھی نہیں چھین سکتیں۔

Leave a Comment