قائداعظم کی شادیاں کن حالات میں ہوئیں؟

جناح کی پہلی شادی 16 سال کی عمر میں ہوئی اور دوسری بیوی جناح سے 24 سال چھوٹی تھی اور کہتے ہیں جب اگست 1947 میں جناح نے ممبئی چھوڑا تو اپنی مرحوم بیوی رتن کی قبر پر گئے اور فاتحہ پڑھتے ہوئے الوداع کیا جو پھر آخری ملاقات ثابت ہوئی۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی پہلی شادی 1892 میں پنیلی گجرات میں اس وقت ہوئی جب ان کی عمر 16 سال ہوئی ان کی بیوی کا نام ایمی بائی تھا جو انکی دور کی رشتے دار بھی تھی اور کہا جاتا ہے یہ شادی جناح نے اپنی والدہ کےاسرار پہ کی تھی کیونکہ جناح لندن اعلیٰ تعلیم کے لیے جارہے تھے اور ان کی والدہ کو وہی خدشات تھے جو آج بھی دیسی والدین کو اولاد کے بگڑ جانے کے عموماً ہوتے ہیں۔
خیر ابھی جناح کو انگلستان گئے زیادہ عرصہ نہ ہوا کہ ہیضہ کی وبا پھیلی جس میں جناح کی والدہ اور بیوی دونوں کی وفات ہوگئی اور جناح نے پھر وطن واپسی پر خود کو وکالت اور سیاست کے لیے وقف کردیا۔
جناح کی زندگی میں رومانوی موڑ 1916 میں تب آیا جب انکی عمر 40 سال ہوچکی تھی اور اب وہ ایک مایہ ناز بیرسٹر اور سیاسی رہنما بن چکے تھے اور انکا میل ملاپ ممبی کی اشرافیہ تک تھا۔

کہتے ہیں گرمیوں کی چھٹیوں جناح کو انکے دوست اور ممبئی کے ایک انتہائی امیر پارسی صنعت کار “سر ڈنشا مانک جی ” نے دارجلنگ ( انڈیا کا مشہور سیاحتی مقام( اپنے گرمیوں والے گھر میں چھٹیاں گزارنے کی دعوت دی تو وہاں جناح کی ملاقات اپنے دوست ڈنشا مانک جی کی اکلوتی 16 سالہ بیٹی رتن بائی سے ہوئی اور جناح ایک طرف رتن بائی کی خوبصورتی اور ذہانت سے متاثر ہوئے اور دوسری طرف رتن کی سیاست اور ادب سے گہری دلچسپی نے دونوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا اور یوں 16 سالہ رتن کو خود سے 24 سال بڑے 40 سالہ محمد علی جناح سے محبت ہوگئی۔
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ جناح نے اپنے دوست سر ڈنشا مانک جی سے رشتہ مانگنے کے لیے پہلے ان سے مختلف مذاہب کے افراد کے مابین شادی پر رائے مانگی ۔۔۔۔؟

جب ڈنشا مانک جی نے مختلف مذاہب کے مابین شادی کی حمایت کی تو جناح نے فوراً رتن بائی جسے عموماً رتی پکارا جاتا تھا اسکا رشتہ مانگ لیا، جس پر سر ڈنشا کو شدید غصہ آگیا اور انہوں نے نہ صرف انکار کیا بلکہ عدالت سے ایک حکم امتناعی بھی حاصل کیا جس کے تحت جب تک رتن بائی 18 سال کی نہیں ہو جاتی، جناح ان کی بیٹی رتن سے کوئی بات چیت یا ملاقات نہیں کرسکتے۔

اور یوں دو سال بعد 1918 میں جیسے ہی رتن بائی 18 سال کی ہوئی تو انہوں نے جامعہ مسجد ممبئی میں مولانا نذیر احمد خجندی کے ہاتھوں اسلام قبول کرتے ہوئے نیا نام مریم رکھا ( لیکن جناح اور بقیہ دوست بعدزاں بھی انہیں رتی کہہ کر مخاطب کرتے تھے )
اپریل 1918 میں جناح کا رتن سے نکاح چند دوستوں کی موجودگی میں جناح کے مالابار ہل ( جناح ہاؤس ) میں ہوا، جس پر رتن بائی کے والد اور پارسی کمیونٹی دونوں نے ان سے تعلق توڑ لیا اور سر ڈنشا نے پھر زندگی بھر رتن سے کوئی تعلق نہ رکھا بلکہ رتن بائی کے گھر آنے اور پارسی عبادت گاہ داخلے پر بھی پابندی لگادی۔
1919 میں انکے ہاں اکلوتی بیٹی دینا جناح پیدا ہوئی اور یہ جوڑا اگلے تین سال انتہائی خوشگواری میں گزارتے ہوئے یورپ کے دورے پر جاتے ، سیاسی اور سماجی تقریبات میں شرکت کرتے اور اس جوڑی کو اکثر ممبئی کی سب سے حسین ترین جوڑی کا خطاب بھی دیا جاتا۔۔۔۔
ایک طرف جناح انتہائی سنجیدہ نظم و ضبط کے پابند اور جذبات پر کنٹرول کرنے والے جبکہ دوسری طرف رتن بائی ایک جذباتی، رومانوی اور جزبات کے اظہار میں کافی کھلی تھی۔
جناح کی سیاسی اور وکالتی سرگرمیوں کے باعث رتن بائی اور جناح کے تعلق میں دراڑ آئی اور یوں 1927 میں رتی بائی اپنی بیٹی کے ساتھ جناح کا گھر چھوڑ کر تاج محل ہوٹل منتقل ہوگئی لیکن طلاق نہ ہوئی اور جناح بھی اپنی بیوی اور بیٹی سے ملنے اکثر تاج محل ہوٹل جاتے اور انکی مکمل مالی ضروریات کا خیال رکھتے۔
1928 میں رتن کی طبیعت خراب رہنے لگی اور کہا جاتا ہے انہیں انتڑیوں کا سرطان ہوگیا تھا اور یوں رتن بائی 20 فروری 1929 کو اپنی 29 سالگرہ کے دن انتقال کرگئی تو جناح جو اس وقت دہلی میں تھے خبر ملتے فورا ممبئی واپس پہنچے اور تدفین کے دوران قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے جذبات چھپانے کے حوالے سے مشہور جناح یہاں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور زور و قطار رونے لگے اور یہ جناح کی زندگی کا واحد موقعہ تھا جب لوگوں نے جناح کو روتے دیکھا۔

چونکہ رتن بائی نے اسلام قبول کیا تھا تو انکی آخری رسومات رسومات اور نماز جنازہ اثنا عشریہ شعیہ کے مطابق ہوئی اور تدفین ممبئی کے خوجا برادری کے قبرستان خوجا اثنا عشریہ قبرستان میں ہوئی۔

وفات سے چند عرصہ قبل رتن جب علاج کے لیے پیرس میں موجود تھی تو انہوں نے وہاں سے جناح کو اپنا آخری خط بھیجا جس میں لکھا۔۔۔
ترجمہ:
” مجھے اس پھول کی طرح یاد رکھنا جسے تم نے توڑا تھا نہ کہ اس پھول کی طرح جسے تم نے مال دیا ہو۔ میں تم سے پیار کرتی ہوں، میں تم سے پیار کرتی ہوں اور اگر میں تم سے کم محبت کرتی تو شائد تمہارے پاس رہتی”

رتن جناح کی وفات کے بعد انکی بیٹی اور جناح کے گھر کی زمہ داری فاطمہ جناح نے سنبھالی۔
رتن کی وفات کے 9 سال بعد جناح بھی اسی مقام پر کھڑے تھے جہاں 1916 میں رتن بائی کے والد تھے کیونکہ جناح کی بیٹی نے بھی ایک سابقہ پارسی اور موجودہ مسیحی شخص سے شادی کا فیصلہ کرلیا تھا اور کہا جاتا ہے یہ جناح سے ممبئی کی پارسی کمیونٹی کا رتن بائی کا ایک طرح سے بدلہ تھا۔
خیر جب پاکستان کے بانی کی حیثیت سے جناح نے ممبئی سے کراچی کے جانب سفر شروع کیا تو جناح ہاؤس چھوڑتے ہوئے رتن بائی کی قبر پر گئے اور فاتحہ خوانی کی جو شاید ایک محبوب کی اپنی محبوبہ کو الوداعی حاضری تھی کیوں کہ پھر جناح دوبارہ رتن کی قبر پر نہ آسکے۔

Leave a Comment