خدا کی بستی میں روزانہ 2000 سے زائد بھوکے لوگوں کو صرف 3 روپے میں کھانا کھلانے والی خاتون پروین سعید۔۔۔

کراچی میں ایک ماں اپنے بچوں کو کھانا فراہم نہ کر سکنے کی انتہائی حالت میں دو بچوں کی جان لینے کے الزام میں گرفتار ہوئی۔ اس واقعے نے کراچی کی سماجی کارکن پروین سعید کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ صحافت سے وابستہ تھیں؛ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس خاتون سے ملاقات بھی کی اور اس کی بات سن کر فیصلہ کیا کہ وہ کم از کم اپنے آس پاس کسی شخص کو صرف بھوک کی وجہ سے ایسی بے بسی تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کریں گی۔

انہوں نے ابتدا کسی بڑی عمارت یا بڑے فنڈ سے نہیں کی۔ گھر میں معمول سے زیادہ کھانا پکانا شروع کیا اور آس پاس کے ضرورت مند خاندانوں تک پہنچانے لگیں۔ پھر یکم جنوری 2002 کو کراچی کے سرجانی ٹاؤن میں “Khana Ghar” کے نام سے باقاعدہ کمیونٹی کچن قائم کیا گیا۔ ادارے کی اپنی معلومات کے مطابق تقریباً ایک سال بعد اسے خدا کی بستی منتقل کر دیا گیا؛ Dawn کی رپورٹ کے مطابق سرجانی میں سابق جگہ ایک پائپ لائن کے کام کے دوران ختم ہونے کے بعد انہیں خدا کی بستی میں نئی جگہ فراہم کی گئی۔

ایک اہم تصحیح یہ ہے کہ شروع میں قیمت 3 روپے نہیں تھی۔ ابتدائی طور پر معمولی رقم تقریباً 2 روپے رکھی گئی تھی، جو بعد میں مہنگائی کے باعث 3 روپے کر دی گئی۔ اس رقم کا مقصد کھانے کی اصل لاگت وصول کرنا نہیں تھا۔ پروین سعید کے مطابق وہ چاہتی تھیں کہ کھانا لینے والے شخص کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ بھیک یا خیرات لے رہا ہے؛ وہ اپنی طرف سے کچھ ادا کر کے کھانا خرید رہا ہو۔ جو شخص یہ معمولی رقم بھی ادا نہیں کر سکتا تھا، اسے کھانا مفت دیا جاتا تھا۔

کھانا گھر میں عام طور پر سادہ، پیٹ بھرنے والا کھانا دیا جاتا رہا—مثلاً روٹی کے ساتھ سالن، دال، سبزی یا لوبیا۔ ادارے کی موجودہ معلومات کے مطابق مینیو بدلتا رہتا ہے اور بعض اوقات گوشت بھی شامل ہوتا ہے۔ مقصد مہنگا یا نمائشی کھانا نہیں بلکہ کم آمدنی والے مزدوروں، بیواؤں اور ایسے خاندانوں کو مستقل بنیادی خوراک دینا تھا جن کے لیے روزانہ کا کھانا بھی مشکل ہو سکتا تھا۔

اس کام کا پیمانہ آہستہ آہستہ غیر معمولی حد تک بڑھا۔ 2008 کی Dawn رپورٹ میں تقریباً 200 افراد روزانہ کھانا حاصل کر رہے تھے؛ تقریباً 2012–13 تک مختلف رپورٹس یہ تعداد 2,000 سے زیادہ روزانہ بتا رہی تھیں۔ پھر یہ ہزاروں تک پہنچی۔ The Guardian کی مارچ 2023 کی رپورٹ کے مطابق کووڈ سے پہلے تقریباً 6,000 افراد روزانہ کھانا لیتے تھے، لاک ڈاؤن کے دوران یہ تعداد 7,000 تک گئی، اور رپورٹ سے پہلے کے تقریباً چار ماہ میں 8,200 افراد روزانہ تک پہنچ گئی تھی۔

اسی سال ستمبر 2023 میں The New Humanitarian نے پروین سعید کے حوالے سے تقریباً 8,000 افراد روزانہ کا عدد رپورٹ کیا۔ یعنی 8,200 کوئی مستقل ہر دور کا اوسط نہیں بلکہ 2022–23 کے شدید مہنگائی اور معاشی دباؤ والے عرصے میں رپورٹ ہونے والی بلند سطح تھی۔ ان رپورٹس کے مطابق بعض اوقات ضرورت اتنی بڑھ جاتی تھی کہ تمام انتظار کرنے والوں کے لیے کھانا کافی بھی نہیں رہتا تھا۔

کام صرف ایک جگہ تک محدود بھی نہیں رہا۔ 2018 کی رپورٹ کے مطابق Khana Ghar کے خدا کی بستی اور کورنگی میں دو مراکز اور کراچی کے مختلف علاقوں میں متعدد pickup points موجود تھے، جہاں مرکزی کچن سے کھانا پہنچایا جاتا تھا۔ اس طرح ایسے لوگ بھی مستفید ہوتے تھے جو مرکزی کچن تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔

پروین سعید کے اس طویل سماجی کام کو قومی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا۔ 2021 میں ان کا نام سماجی بہبود کے شعبے میں President’s Award for Pride of Performance کے لیے شامل کیا گیا۔ Dawn کی سرکاری ایوارڈ فہرست کی رپورٹ میں بھی ان کا نام Social Welfare کے تحت درج ہے۔

اس کہانی کی سب سے نمایاں بات صرف “3 روپے کا کھانا” نہیں ہے۔ ایک معمولی گھریلو کوشش نے دو دہائیوں میں ایسا نظام اختیار کیا جس نے بعض ادوار میں روزانہ آٹھ ہزار سے زیادہ لوگوں تک کھانا پہنچایا، جبکہ 3 روپے کی علامتی قیمت برقرار رکھنے کے پیچھے بنیادی تصور یہ تھا کہ بھوک مٹاتے وقت ضرورت مند انسان کی عزتِ نفس بھی برقرار رہے۔

Leave a Comment