اداکار ننھا نے محبت میں ناکام ہو کر جس روز ۔جا۔ن۔ دی اسکے مرنے پر اداکارہ نازلی کا رد عمل کیا تھا ۔۔۔؟ 1970اور 1980ء کی دہائیوں میں شہرت کی بلند ترین چوٹیوں پر کھڑے ننھا کی زندگی میں جب اداکارہ نازلی داخل ہوئی، تو ایک ایسا موڑ آیا جہاں فن کا یہ عظیم شاہکار ایک عام اور سچے عاشق کی طرح اپنی سمت کھو بیٹھا۔ نازلی فلمی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام تھی اور ننھا نے اس کی زلف کے گرہ گیر میں اپنا سب کچھ وار دیا۔ وہ محبت کی اس اندھی وادی میں اس حد تک اتر گئے کہ اپنی محنت کی ساری جمع پونجی، اپنی جائیداد، اور اپنے خون پسینے کی کمائی نازلی کے قدموں میں نچھاور کر دی۔ دل نے صرف ایک ہی سودا کیا تھا—وفا اور ساتھ کا۔ مگر افسوس، جہاں سچی محبت کا محل تعمیر ہونا تھا، وہاں بے وفائی اور سرد مہری کے آسیب منڈلا رہے تھے۔ جب ننھا پر یہ روح فرسا حقیقت کھلی کہ جس جذبے کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا، وہ تو محض ایک فریب تھا، تو ان کا نازک اور حساس دل اس صدمے کو برداشت نہ کر سکا۔2 جولائی 1986ء کی وہ منحوس صبح لاہور کے افق پر کسی بھیانک تاریخ کی طرح نمودار ہوئی۔ اپنے چاہنے والوں کو مسکراہٹیں بانٹنے والے رفیع خاور نے شدید ذہنی دباؤ، مایوسی اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اپنی زندگی کی ڈور کا۔ٹ دی۔ پورا ملک، ان کے مداح اور فنکار برادری اس خبر سے ہل کر رہ گئے۔ لیکن اس داستان کا سب سے دل دہلا دینے والا پہلو وہ معصوم بچے تھے جو ننھا کے پیچھے کسمپرسی اور بے یار و مددگاری کی حالت میں رہ گئے۔ ایک شادی شدہ انسان اور تین بچوں کا باپ، جو محبت کے جنون میں اپنے معصوم پھولوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا۔محبت کے اس دردناک اختتام پر انسان کی روح اس وقت اور زیادہ تڑپ اٹھتی ہے جب نازلی کا وہ سنگدلانہ بیان سامنے آیا جس نے انسانی رشتوں کے شیشے پر آخری پتھر مارا۔ جب نازلی سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں ننھا سے محبت تھی، تو اس کے سرد لہجے نے محبت کی حرمت کو شرمسار کر دیا؛ اس نے کہا کہ محبت جیسا کچھ نہیں تھا، ہم صرف ساتھ کام کرنے والے اداکار تھے، اور جو شخص اپنی ذاتی خواہشات کی خاطر اپنے معصوم بچوں کو بھول جائے ، وہ کسی سے کیا محبت کرے گا۔ یہی نہیں، نازلی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے درمیان دوستی تو تھی مگر شادی کا کبھی کوئی وعدہ نہیں ہوا تھا۔
