دو سو مسلح افراد کے سامنے ڈٹ جانیوالی نازو اور اسکی بہادر بہنوں کی داستاں۔۔۔

سندھ کے قاضی احمد کے قریب دیدھان گاؤں میں نازو دھاریجو کے خاندان کا زمین اور وراثت پر اپنے ہی رشتہ داروں سے طویل تنازع چل رہا تھا۔ نازو کے والد حاجی خدا بخش دھاریجو کے خاندان میں پہلے ہی وراثتی جھگڑے موجود تھے۔ تنازع خونی صورت اختیار کرگیا، نازو کا اکلوتا بھائی سکندر 1992 میں مارا گیا، والد قانونی مقدمات اور قید میں پھنسے رہے، اور بعد میں ان کی وفات کے بعد مخالف رشتہ داروں کو لگا کہ اب گھر میں زیادہ تر خواتین رہ گئی ہیں، اس لیے زمین پر قبضہ آسان ہوگا۔

نازو کے والد نے اپنی بیٹیوں کو بچپن ہی سے یہ احساس دیا تھا کہ وہ بیٹوں سے کم نہیں۔ انہیں تعلیم کے مواقع دینے کے ساتھ ہتھیار چلانا بھی سکھایا تھا۔ نازو کے مطابق والد اپنی بیٹیوں کو اپنا سہارا کہتے تھے۔ یہی تربیت بعد میں اس وقت کام آئی جب خاندان کی زمین پر قبضے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ ایک پہلے حملے کے دوران بھی نوجوان نازو، اس کی بہنیں، والدہ اور چند رشتہ دار رات بھر مسلح مزاحمت کرچکے تھے۔

اصل غیر معمولی واقعہ اگست 2005 کی گرمی کی رات پیش آیا۔ AFP کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 200 مسلح افراد نے ان کے آبائی گھر اور زمین کو گھیر لیا۔ نازو اور اس کی بہنیں محدود گولہ بارود کے ساتھ کلاشنکوف لے کر مکان کی چھت پر پہنچ گئیں۔ ان کے ساتھ نازو کے شوہر، چند وفادار لوگ اور پڑوسی بھی دفاع میں شامل تھے۔ تعداد کا فرق انتہائی غیر مساوی تھا: ایک طرف تقریباً دو سو مسلح حملہ آور، دوسری طرف ایک چھوٹا سا خاندانی گروہ۔

عملی طور پر خطرہ اتنا قریب پہنچ گیا تھا کہ 2012 کی تفصیلی Express Tribune رپورٹ کے مطابق حملہ آور کھیتوں میں کھڑی اونچی فصل کو آڑ بنا کر آہستہ آہستہ مکان کی طرف بڑھے اور آخرکار گھر سے صرف 20 سے 30 گز کے فاصلے تک پہنچ گئے۔ وہاں سے انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ نازو نے بتایا کہ ان پر گولیاں برس رہی تھیں جبکہ ان کے پاس اسلحہ اور گولیاں انتہائی محدود تھیں؛ رپورٹ میں تو یہاں تک درج ہے کہ ان کے پاس بنیادی طور پر ایک کلاشنکوف تھی اور گولہ بارود ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔

اس کے باوجود نازو نے جگہ چھوڑنے سے انکار کردیا۔ چھت سے وہ اور اس کے ساتھی جوابی فائر کرتے رہے جبکہ گھر کے ملازمین جان خطرے میں ڈال کر مزید گولہ بارود لاتے رہے۔ یہ مقابلہ چند منٹ کا نہیں تھا؛ چھوٹے سے گروہ نے حملہ آوروں کو رات بھر گھر تک پہنچنے سے روکے رکھا اور طلوعِ صبح تک مورچہ قائم رکھا۔ AFP کو بعد میں نازو نے اس رات کا اپنا فیصلہ یوں بیان کیا کہ وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے وہیں جان دینے کے لیے تیار تھی۔

صبح ہونے تک تقریباً 200 افراد گھر پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ Express Tribune کے مطابق اگلے روز جب پولیس پہنچی تو نازو کو مکان خالی کرنے کا کہا گیا، لیکن اس نے عدالت کا حکمِ امتناع (stay order) دکھاتے ہوئے صاف انکار کردیا کہ وہ قانونی طور پر اس گھر میں ہیں اور اسے نہیں چھوڑیں گے۔ بعد میں زمین کا تنازع عدالتوں میں بھی چلتا رہا۔ AFP/Pakistan Today کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق پانچ سالہ قانونی لڑائی کے نتیجے میں مخالف فریق کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے اور عوامی معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اس واقعے کی سب سے غیر معمولی بات صرف یہ نہیں کہ نازو نے بندوق اٹھائی؛ بلکہ یہ تھی کہ تقریباً 200 مسلح افراد زمین پر قبضہ کرنے آئے، گھر کے بالکل قریب پہنچ کر فائرنگ کی، جبکہ نازو نے اپنی بہنوں اور چند ساتھیوں کے ساتھ محدود اسلحے اور گولیوں میں پوری رات مورچہ سنبھال کر انہیں آبائی گھر تک پہنچنے نہیں دیا۔ اسی مزاحمت نے اسے میڈیا میں “Pakistan’s toughest woman” کے نام سے مشہور کردیا۔

بعد میں برطانوی پاکستانی فلم ساز سرمد مسعود نے نازو کی کہانی پر فلم My Pure Land بنائی۔ فلم 2017 میں ریلیز ہوئی اور برطانیہ کی جانب سے غیر ملکی زبان کی فلم کے آسکر مقابلے کے لیے سرکاری انٹری کے طور پر منتخب ہوئی۔ فلم میں اصل واقعے کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے، اس لیے فلم کی ہر تفصیل کو تاریخی ریکارڈ سمجھنا درست نہیں؛ لیکن 200 مسلح افراد کے مقابلے میں نازو اور اس کے خاندان کے آبائی گھر کے دفاع کا بنیادی واقعہ حقیقی ہے۔

Leave a Comment