عالم لوہار اور گاؤں کے ایک مزدور آدمی کا سچا واقعہ:
کسی گاوں میں کوئی غریب آدمی تھا جو کہ عالم لوہارکا بہت بڑا فین تھا وہ گاوں والوں سے کہا کرتا تھا کہ جب میرے بیٹے کی شادی ہوگی تو میں عالم لوہارکو یہاں بلاونگا
جب اس کے بیٹے کی شادی طے پاگئی تو گاوں والوں نے عالم لوہارکے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی
اس کا بیٹا اپنے باپ سے لڑنے لگا کہ ابا جی آپ نے خود ہی اپنے آپ کو گاوں والوں کے سامنے بے عزت کیا ہے ، آپ کو شروع سے پتا تھا کہ ہم غریب لوگ ہیں
شادی سے کچھ دن پہلے وہ شخص کسی طرح عالم لوہار کے گھر اچھ کوچھ لالہ موسی پہنچ گیا ، اور اپنے بیٹے کی شادی میں گانے کی درخواست پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کا معاوضہ نہیں دے سکتا بس آپ اللہ کی رضا کے لئیے آجائیں
عالم لوہارنے اپنے مینجر سے کہا کہ ان صاحب کے گاوں کا پورا پتا لکھ لیں اور ساتھ ان کے بیٹے کی شادی کی مہندی والی تاریخ بھی نوٹ کر لیں
اس شخص نے واپس گاوں پہنچ کر اپنے بیٹے کو سارا واقعہ سنایا تو اس کے بیٹے نے کہا کہ ابا جی اب ہم پر اور اپنے آپ پر رحم کرنا اور یہ بات گاوں والوں کو نہ بتانا
عالم لوہارنے آپ کا دل رکھنے کے لئیے مینجر کو نوٹ کروادیا ہوگا
شادی سے ایک دن پہلے عصر ٹائم گاوں والوں نے دیکھا کہ گاوں کی کچی سڑک پر دو کاریں آرہی ہیں
گاڑیاں گاوں میں آکر رکیں تو ان میں سے عالم لوہارنکلےاور گاوں والوں سے اس شخص کے بارے پوچھا
پورے گاوں میں شور پڑ گیا کہ عالم لوہارفلاں کی شادی میں شریک ہونے آئی ہیں
اس شخص نے عالم لوہارسے کہا کہ جناب والا مجھے تو رتی بھر بھی یقین نہیں تھا کہ آپ واقعی ہی آجائیں گی
عالم لوہارنے کہا کہ اب فورا ساتھ ساتھ والے گاوں میں میرا اعلان کروا دو اور جو ان علاقوں کے معتبر لوگ ہیں ان کو دعوت بھیج دو
اس شخص نے اپنی پسلی کے مطابق کھانے کا بندوبست کیا اور رات کو عالم لوہارکے گانے کا پروگرام شروع ہوگیا
علاقے کے لوگوں نے عالم لوہارپر نوٹوں کی بارش کردی
صبع صبع جب عالم لوہار واپس جانے لگے تو انہوں نے اس شخص سے کہا کہ یہ جو رات مجھے پیسے ہوئے ہیں وہ میں نے سارے اس چادر میں باندھ دیے ہیں تم یہ اپنے پاس رکھ لو
وہ شخص کہنے لگا کہ قبلہ میں نے تو آپ کو ایک روپیہ معاوضہ بھی نہیں دیا آپ نے یہاں آکر مجھ پہ پہلے ہی بہت احسان کیا ہے اس لئیے یہ پیسے آپ ہی لے جائیں
عالم لوہارنے اسے جواب دیا کہ میں تم کو جانتا بھی نہیں اس لئیے یہ بات یاد رکھنا کہ میں تیرے لئیے نہیں آیا
میری پوری زندگی میں مجھے کبھی کسی نے اللہ کے نام پہ نہیں بلایا تم واحد شخص ہو جس نے معاوضہ کی بجائے مجھے اللہ کے نام پہ دعوت دی
میں یہاں اللہ کے واسطے آئی تھی تیرے واستے نہیں
اس لئیے اس محفل کی ساری کمائی بھی تم اسی اللہ کے نام پہ اپنے پاس رکھ لو
