ایک جرم کا اس سے خوبصورت ڈراپ سین آپ نے کبھی سنا اور دیکھا نہ ہو گا ۔۔۔۔ سیالکوٹ کے دکانداروں نے 2 لاکھ کا موبائل چوری کرنے والے نوجوان کو ٹریس کرنے کے بعد اسے مہمان خصوصی اور دلہا بنا کر استقبال کیوں کیا ؟ ایک ہفتہ قبل سیالکوٹ میں ایک نوجوان نے دکاندار کو باتوں میں لگا کر 2 لاکھ کے قریب مالیت کا موبائل جیب میں ڈالا اور رفو چکر ہو گیا ، سی سی ٹی وی ویڈیوز کو بنیاد بنا کر دکانداروں نے ایف آئی آر درج کروائی ۔ موبائل مارکیٹ والوں نے پورا زور لگایا پولیس کی معاونت کی تو چور نوجوان گوجرانوالہ سے ٹریس کر لیا گیا جب دکاندار پولیس کو لے کر اس نوجوان کے گھر پہنچے تو اس سٹوڈنٹ کے والدین نے اپنا بیٹا دکانداروں اور پولیس کے حوالے کردیا کہ اگر اس نے جرم کیا ہے تو جو سزا ہے آپ اسے دلوائیں ۔۔۔۔ اس نوجوان سے فون برآمد ہو گیا ، پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ نوجوان ویڈیو ایڈیٹنگ کا کام جانتا تھا اسکے پاس موبائل نہیں تھا جس وجہ سے وہ کام نہ کرپاتا تھا ۔ مجبور ہو کر اس نے یہ غلطی کی مگر دو راتوں میں اس نے چوری شدہ موبائل کے ذریعے ایڈیٹنگ کا کام کرکے 10 ہزار روپے کما لیے تھے ۔ دکاندار بھی سلجھے ہوئے لوگ تھے یہ اس بچے کی مجبوری اور قابلیت سے متاثر ہوئے نوجوان کے والدین کے تعاون کو دیکھ کر بھی یہ متاثر ہوئے تھے ۔ پھر انہوں نے ایک فیصلہ کیا تھانے سے ضروری کارروائی کے بعد یہ اپنے ملزم کو مارکیٹ لے آئے یہاں ڈھول کی تھاپ پر اسکا استقبال کیا ۔ اسے ہار پہنائے گئے اور بہترین کھانا کھلا کر اسے اپنی گاڑی میں گوجرانوالہ اسکے والدین کے حوالے کر آئے ۔ نوجوان کو نصیحت بھی کہ اپنی قابلیت اور صلاحیتیں مثبت طور پر استعمال کرو اور اپنےو الدین کو کچھ بن کر دکھا دو ۔۔۔۔ دکاندار کا موقف ہے کہ یہ نوجوان لڑکا تھا اسکے سامنے پوری زندگی پڑی تھی اگر ہم کارروائی کرتے اسے سزا دلواتے تو اسکا مستقبل خراب ہو سکتا تھا ہم دکانداروں نے آپس میں مشورہ کیا اور اس نوجوان کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا اگر یہ نوجوان سمجھ جائے تو اس میں اسکے لیے بڑا سبق ہے اللہ تعالیٰ انسان کے ہزاروں گناہ معاف کردیتا ہے اور ہماری کیا اوقات کہ ہم اسکی ایک غلطی بھی معاف نہ کرتے ۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم اس نوجوان کو اچھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور معافی دینے والے دکانداروں کو بھی اس نیکی کا اجر دے آمین۔۔۔
