ایکسیڈنٹ کے بعد جب سب لوگ ویڈیوز بنانے میں مشغول تھے تب خون میں لت پت بچے کو اپنی گاڑی میں ڈال ہسپتال میں پہنچانے والے کاشف گوندل کی روداد۔۔۔

موٹروے پر ایک گاڑی بری طرح تباہ ہو چکی تھی، ایک خاندان شدید زخمی تھا اور قریب کھڑے کچھ لوگ اپنے موبائل فون سے ویڈیوز بنا رہے تھے۔ اسی راستے سے گزرنے والے کاشف ممتاز گوندل جب وہاں رکے تو ان کی نظر ایک دو سالہ بچے پر پڑی، جو خون میں لت پت تھا۔ اس لمحے انہوں نے زخمیوں کو اپنی گاڑی میں ڈال کر ہسپتال پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ کاشف اپنے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ 24 ستمبر 2020 کا ہے۔ وہ لاہور سے واپس آ رہے تھے کہ عبدالحکیم انٹرچینج سے چند کلومیٹر پہلے انہیں ایک ہونڈا کار نظر آئی، جو ٹرک سے ٹکرانے کے بعد بری طرح تباہ ہو گئی تھی۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ بچے کے ساتھ اس کے والدین بھی شدید زخمی ہیں۔ کاشف کے مطابق وہاں موجود لوگ فوری مدد کرنے یا ایمبولینس بلانے کے بجائے واقعے کی ویڈیوز بنانے میں مصروف تھے۔

کاشف نے بچے کو اپنی گود میں اٹھایا اور اس کے شدید زخمی والد، عثمان، کو بھی اپنی گاڑی میں منتقل کیا۔ انہوں نے ریسکیو 1122 کے پہنچنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود قریبی عبدالحکیم ہسپتال کی طرف گاڑی دوڑا دی۔ راستے میں انہوں نے ریسکیو اور پولیس کو فون کر کے حادثے کی اطلاع بھی دی، تاکہ متعلقہ ادارے موقع پر پہنچ سکیں۔ ان کے سامنے ایک ننھا بچہ اور اس کا زخمی باپ تھا، جنہیں فوری طبی مدد کی ضرورت تھی۔ لیکن کاشف کے بیان کے مطابق جب وہ ہسپتال پہنچے تو انہیں فوری مدد کے لیے کوئی ڈاکٹر یا طبی عملہ موجود نہیں ملا۔ جس امید کے ساتھ وہ زخمیوں کو وہاں لائے تھے، اب اسی ہسپتال میں انہیں ڈاکٹر کو بلانے اور علاج شروع کروانے کے لیے کوشش کرنا پڑ رہی تھی۔

انٹرویو میں کاشف نے حیدر نامی ڈاکٹر پر الزام لگایا کہ جب اسے ایمرجنسی کی سنگینی بتا کر فوراً آنے کے لیے کہا گیا تو اس نے پہلے کہا، ’’یہ میری نماز کا وقت ہے‘‘، اور بعد میں ’’میں نے نہانا ہے‘‘ کہہ کر آنے سے انکار کر دیا۔ یہ ڈاکٹر کے رویے سے متعلق کاشف گوندل کا بیان ہے۔ کاشف بتاتے ہیں کہ اس دوران انہوں نے خود بچے کو سی پی آر دینے اور اس کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کی، لیکن شدید زخمی بچہ جانبر نہ ہو سکا اور ان کے ہاتھوں میں دم توڑ گیا۔ جس بچے کو وہ حادثے کی جگہ سے اٹھا کر ہسپتال تک لائے تھے، اسے بچانے کی ان کی کوشش ادھوری رہ گئی۔ وہ اس ننھی جان کو بچانے کے لیے اپنی طرف سے کوشش کرتے رہے، مگر آخرکار انہیں اس کی موت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس المناک لمحے کے بعد بھی کاشف نے زخمی خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا۔ اب ضروری تھا کہ ان کے گھر والوں کو تلاش کیا جائے اور انہیں حادثے کی خبر دی جائے۔ کاشف کے مطابق زخمی والد کے پرس اور اس میں موجود کارڈز سے معلوم ہوا کہ یہ خاندان کیلیفورنیا میں مقیم، امریکی شہریت رکھنے والے اوورسیز پاکستانیوں کا تھا۔ انہوں نے ڈی سی، ڈی پی او اور اپنے دوستوں کی مدد سے خاندان کے متعلقہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کی۔ رابطوں اور تلاش کے بعد بالآخر گھر والوں کو اطلاع پہنچائی گئی، اور ان کے آنے پر کاشف نے معاملات ان کے حوالے کیے۔ ایک اجنبی خاندان سے ان کا تعلق صرف اتنا تھا کہ وہ حادثے کے وقت اسی سڑک سے گزر رہے تھے، لیکن انہوں نے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے سے لے کر ان کے اہلِ خانہ تک خبر پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی۔

کاشف نے انٹرویو میں اس گاڑی کے ڈرائیور سے ہونے والی بعد کی ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ڈرائیور ایک بزرگ شخص تھا، جو اس خوفناک حادثے میں محفوظ رہا تھا۔ اس نے خود بتایا کہ اسے رات کے وقت ٹھیک طرح نظر نہیں آتا، اس کے باوجود وہ گاڑی چلا رہا تھا۔ کاشف کے بیان کے مطابق ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ پہن رکھی تھی، اس کی جانب کا ایئر بیگ کھل گیا تھا اور گاڑی کو بائیں طرف سے ٹکر لگی تھی۔ حادثے کی یہ تفصیل بھی انہوں نے اپنے انٹرویو میں بیان کی، تاہم اس خاندان کو پیش آنے والے سانحے میں سب سے دردناک بات اس دو سالہ بچے کی موت تھی، جسے کاشف اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر مدد کی امید لیے ہسپتال پہنچے تھے۔

اس واقعے کے ذریعے کاشف گوندل نے دو باتوں کی طرف توجہ دلائی: موٹروے پر مناسب مقامات پر ایمرجنسی ٹراما سینٹرز ہونے چاہییں، جہاں حادثات کے زخمیوں کو فوری طبی امداد مل سکے، اور حادثے کی جگہ موجود لوگوں کو ویڈیوز بنانے کے بجائے زخمیوں کی مدد کو ترجیح دینی چاہیے۔ کسی کی زندگی خطرے میں ہو تو وہاں کھڑا ہر شخص مدد کی کوشش کر سکتا ہے، چاہے متعلقہ اداروں کو اطلاع دے کر یا ضرورت مند کو بروقت امداد تک پہنچانے میں ساتھ دے کر۔ کاشف اس بچے کی جان نہیں بچا سکے، لیکن انہوں نے ایک اجنبی خاندان کے لیے اپنی گاڑی روکی، زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا اور ان کے گھر والوں کو تلاش کیا۔ ان کی اس کوشش میں وہ انسانیت نظر آتی ہے جس کی ضرورت حادثے کے وقت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

Leave a Comment