
ان دو بہنوں کی سچی کہانی جنہیں یہ تسلی تھی کہ اسلام شادی میں پسند ناپسند کا حق دیتا ہے ۔۔۔۔ ہنسی خوشی سپین سے اپنی ماں کے ساتھ پاکستان آئی تھیں مگر زندہ واپس نہ جا سکیں ۔۔۔۔۔۔ ان بچیوں کی والدہ انصاف لیے بغیر واپس سپین جاتے وقت کیا تلخ جملہ کہہ گئی تھی ۔۔۔ 3 سال قبل پیش آئے ایک واقعہ کی روداد ۔۔۔۔چوبیس برس کی انیسہ اور بیس سال کی عروج ، اپنی والدہ کے ساتھ سپین سے گجرات پہنچیں ، یہ دونوں لڑکیاں محمد عباس نامی شخص کی بیٹیاں تھیں جو کچھ دہائیوں قبل روزگار کے سلسلے میں سپین منتقل ہوا تھا ۔عباس نے اپنی لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح اپنے بھائی کے بیٹے اور دوسری کا اپنی بہن کے بیٹے سے کیا ہوا تھا ۔لڑکے والوں کا پلان یہ تھا کہ نکاح کے کاغذات کی بنیاد پر اِنہیں سپین بلالیا جائے گا تاہم لڑکیاں اِس ساری کارروائی سے مطمئن نہیں تھیں ۔ نکاح کے بعد لڑکیوں کے چچا اور پھوپھو صرف یہی گفتگو کرتے تھےکہ اُن کے بیٹوں کو سپین کب بلایا جائے گا ۔جب معاملے نے طول پکڑا تو اِن لڑکیوں کو دھوکے سے یہ کہہ کر سپین سے گجرات بلایا گیا کہ اگر انہیں اپنے شوہر پسند نہ آئے تو پھر وہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گی ۔ لیکن جب یہ دونوں لڑکیا ں اپنی والدہ عذرا بی بی کے ساتھ گجرات پہنچیں تو اُن کے مقدر کا فیصلہ ہوچکا تھا۔دو دن بعد اِن خاندانوں کی بیٹھک ہوئی جس میں یہ بحث شروع ہوئی کہ آخر لڑکوں کو سپین کیوں نہیں بلایا جا رہا ، وہاں انیسہ اور عروج نے صاف الفاظ میں بتادیا کہ وہ اپنے کزنز کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتیں ، اُن کا چچا اپنی بھتیجیوں کی یہ ’بد تمیزی‘برداشت نہ کرسکااور ہتھے سے اکھڑ گیا ، لڑکیوں کی ماں اُس کے پاؤں پڑ گئی ، دہائی دینے لگی کہ اُس کی بیٹیوں کو چھوڑ دیا جائے مگر کسی نے اُس ماں کی فریاد نہیں سنی بلکہ اسے گھسیٹ کر ایک کمرے میں بند کردیا اور باہر سے کُنڈی لگا دی ۔سگےچچا، بھائیوں اور لڑکیوں کے شوہروں سمیت نو آدمیوں نے مل کر اُن بچیوں کو درندگی سے ق۔ت۔ل کر ڈالا۔’’ماں نے بچیوں کی چیخیں سنیں جو کہ آہستہ آہستہ ختم ہوگئیں ،بعد میں گو۔لیاں چلنے کی آواز آئی ،مگر شاید وہ گو۔لیاں لگنے سے پہلے ہی مرچکی تھیں۔‘‘ یہ بیان عذرا بی بی نے پولیس کو دیا مگر ساتھ ہی یہ کہہ کر اِس مقدمے میں مدعی بننے سے انکار کردیاکہ انہیں اِس مقدمے میں انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں ۔ عذرا بی بی نے پولیس کو کہاکہ وہ سپین واپس چلے جائے گی’’ انصاف جائے بھاڑ میں ، میں جیتی جاگتی بیٹیاں ساتھ لائی تھی، اب خالی ہاتھ واپس جا رہی ہوں کیا کوئی ایسا انصاف ہے جو مجھے میری بیٹیاں واپس لا دے ۔‘
