52 سالہ آدم محمد نے یکم اگست 2021 کو برطانیہ کے شہر وولورہیمپٹن میں واقع اپنے گھر سے مکہ کی جانب پیدل سفر شروع کیا۔ روانگی سے پہلے انہوں نے تقریباً دو ماہ تیاری کی اور اپنا سامان لے جانے کے لیے خود ایک بڑی پہیوں والی ٹرالی بنائی۔ سامان رکھنے کے بعد اس ٹرالی کا وزن 250 کلوگرام تک پہنچ جاتا تھا۔ یہی ٹرالی پورے سفر میں ان کا چلتا پھرتا ٹھکانہ بنی، جس میں وہ اپنا ضروری سامان رکھتے، کھانا پکاتے، کھاتے اور سوتے تھے۔
آدم محمد کو صرف ہزاروں کلومیٹر پیدل ہی نہیں چلنا تھا بلکہ قدم قدم پر اس بھاری ٹرالی کو بھی اپنے ساتھ دھکیلنا تھا۔ وہ روزانہ اوسطاً 17.8 کلومیٹر چلتے اور پھر اسی ٹرالی کے پاس قیام کرتے۔ اگلے دن دوبارہ اسے دھکیلتے ہوئے سفر شروع کر دیتے۔ اسی مسلسل محنت کے ساتھ وہ نیدرلینڈز، جرمنی، جمہوریہ چیک، ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، ترکی، لبنان، شام اور اردن سے گزرتے ہوئے سعودی عرب پہنچے۔
راستے میں بدلتا موسم اور اتنا طویل پیدل سفر ان کے لیے بڑی آزمائش تھے۔ مختلف ممالک میں پولیس نے بھی کئی مرتبہ انہیں روک کر وہاں موجود ہونے کی وجہ پوچھی۔ جب اہلکاروں کو معلوم ہوتا کہ وہ برطانیہ سے پیدل حج کے لیے مکہ جا رہے ہیں تو وہ اس غیرمعمولی سفر پر حیران رہ جاتے۔ راستے میں بعض لوگوں نے انہیں کھانا اور آرام کرنے کی جگہ دی، جبکہ کچھ افراد نے ان کی ٹرالی دھکیلنے میں بھی مدد کی۔
مسلسل 11 ماہ اور 26 دن پیدل چلنے اور تقریباً 6,500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد آدم محمد 26 جون 2022 کو مکہ کی مسجد عائشہ پہنچ گئے۔ وہاں مقامی افراد، حجاج اور برطانیہ سے آنے والی ان کی دونوں بیٹیوں نے ان کا استقبال کیا۔
تقریباً ایک سال تک روزانہ پیدل چلنا، 250 کلوگرام تک وزنی ٹرالی کو مختلف ممالک سے گزارنا اور اسی میں کھانے، سونے اور سفر کا پورا انتظام رکھتے ہوئے مکہ پہنچنا آدم محمد کے اس کارنامے کا اصل عملی اور غیرمعمولی پہلو ہے۔
