1988 میں انور علی کھوکھر نے لاڑکانہ میں گمشدہ بچوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کا کام شروع کیا۔ ان کی حجام کی دکان قائم شاہ بخاری کے مزار کے قریب تھی۔ کوئی بچھڑا ہوا بچہ ملتا تو پہلے لاؤڈ اسپیکر پر اس کا نام پکار کر گھر والوں کو ڈھونڈتے۔ پھر پیتل کی گھنٹی لے کر بچے کا ہاتھ تھامے گلیوں اور بازاروں میں نکل جاتے۔ بچہ چلتے چلتے تھک جاتا تو اسے کندھے پر اٹھا لیتے۔ شروع میں ان کے پاس سائیکل خریدنے کے پیسے بھی نہیں تھے لیکن جب بچوں کی تعداد بڑھی تو انہیں ساتھ لے جانے کے لیے سہ پہیہ گاڑی کا انتظام کیا۔
جس بچے کے والدین شام تک نہ ملتے، کھوکھر اسے اپنے گھر لے جاتے، جہاں ان کی اہلیہ حسنا اور آٹھ بچے پہلے ہی رہتے تھے۔ بالآخر 2001 میں انہوں نے خدمتِ معصوم ویلفیئر ٹرسٹ کا مرکز قائم کیا، تاکہ ایسے بچوں کو تلاشِ ورثا کے دوران جگہ اور دیکھ بھال مل سکے۔ پولیس اور عام شہری کسی گمشدہ بچے کی اطلاع انہیں دیتے، یا اسے ان کی دکان یا مرکز تک پہنچا دیتے۔ کھوکھر پھر اس کے گھر والوں کی تلاش میں لگ جاتے۔ 
ان کے مرکز میں بچوں کی تصاویر، اخباری اعلانات اور تلاش کا ریکارڈ رجسٹروں میں محفوظ رہتا۔ ضرورت پڑتی تو بچے کی تصویر اخبار اور ٹی وی پر دکھائی جاتی۔ کچھ خاندان چند گھنٹوں میں مل جاتے تھے، مگر کچھ بچوں کے لیے یہ انتظار برسوں پر محیط ہوتا۔ رشیدہ انہی میں سے ایک تھی۔ پولیس اسے کھوکھر کے پاس لائی تھی؛ گھر کے حالات ایسے تھے کہ اسے اپنی جان بچانے کے لیے نکلنا پڑا تھا۔ کھوکھر سات سال تک اس کے گھر والوں کو ڈھونڈتے رہے اور اس کی تصویر بار بار شائع کرواتے رہے۔ پھر 2009 میں اس کے بھائی نے اسے پہچان لیا۔
یہ صرف ایک خاندان کے ملاپ کی کہانی نہیں تھی۔ 29 دسمبر 2010 کو ڈان نے رپورٹ کیا کہ انور کھوکھر 8,500 سے زیادہ گمشدہ بچوں کو ان کے والدین سے ملا چکے تھے۔ صرف اسی سال انہوں نے 529 بچوں کے گھر والوں کو تلاش کیا: 338 لڑکے اور 191 لڑکیاں۔ اس وقت ان کے مرکز کا ماہانہ خرچ 50 ہزار روپے سے زیادہ تھا، جبکہ مقامی عطیات تقریباً 11 ہزار روپے ماہانہ تھے۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے کام جاری رکھا؛ خدمات کے اعتراف میں انہیں 2003 میں تمغۂ امتیاز دیا گیا۔ 
2017 میں انور کھوکھر نے بتایا کہ بچوں اور خواتین سمیت 11 ہزار بچھڑے افراد ان کی کوششوں سے اپنے خاندانوں تک پہنچ چکے تھے۔ عمر بڑھنے پر انہوں نے اپنے بیٹے سمیت گھر کے نوجوانوں کو بھی یہ کام آگے بڑھانے کے لیے تیار کیا۔ انور علی کھوکھر کا انتقال 18 مارچ 2024 کو ہوا، مگر ان کی زندگی کا کام ان ہزاروں خاندانوں کی کہانیوں میں محفوظ ہے جو کبھی ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے۔
