فضل االرحمن نے کیسے 100 فٹ گہرے اور صرف2 فٹ چوڑے کنویں سے اپنی پاؤں سے رسی بندھوا کر الٹا لٹک کر بچی کی جان بچائی؟

اکتوبر 2022 میں بلوچستان کے ضلع بارکھان کے دورافتادہ علاقے ناہڑ کوٹ میں ایک کمسن بچی حوا گھر کے قریب کھیلتے ہوئے ایک انتہائی گہرے اور تنگ ٹیوب ویل کے بور میں جا گری۔ بور کی گہرائی تقریباً 100 فٹ بتائی گئی۔ بچی خوش قسمتی سے بالکل تہہ تک نہیں گئی بلکہ تقریباً 60 فٹ نیچے موجود فلٹر پائپ کے پاس پھنس گئی، مگر اتنی گہرائی، اندھیرے اور انتہائی کم چوڑائی کی وجہ سے اس تک پہنچنا تقریباً ناممکن نظر آرہا تھا۔

کئی گھنٹوں سے بچی کو نکالنے کی کوششیں جاری تھیں۔ دو افراد پہلے بور میں اترنے کی کوشش کرچکے تھے، لیکن درمیان میں ایک مقام پر بور صرف تقریباً ایک فٹ چوڑا رہ جاتا تھا اور پتھروں کی وجہ سے اتنا تنگ تھا کہ وہ اس سے آگے نہ جاسکے۔ بچی کے والد اور رشتہ دار مایوس ہوچکے تھے۔ اسی دوران فضل الرحمٰن وہاں پہنچے۔ وہ باقی افراد کے مقابلے میں دبلے پتلے تھے، اس لیے انہیں امید ہوئی کہ شاید وہ اس تنگ حصے سے گزر سکیں۔

فضل الرحمٰن نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر خود نیچے اترنے کا فیصلہ کیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے انہیں تین رسیاں باندھیں تاکہ ایک رسی ناکام بھی ہوجائے تو باقی رسیاں انہیں سنبھال سکیں۔ پھر لوگوں نے رسیوں کے ذریعے انہیں آہستہ آہستہ بور کے اندر اتارنا شروع کیا۔ نیچے جاتے ہوئے ابتدا میں بور دو سے تین فٹ چوڑا تھا، لیکن تقریباً درمیان میں پہنچ کر راستہ صرف ایک فٹ کے قریب رہ گیا۔ فضل الرحمٰن کے بازو پتھروں کے درمیان پھنسنے لگے اور ایک لمحے پر انہیں خود بھی محسوس ہوا کہ شاید وہ یہاں سے واپس زندہ نہ نکل سکیں۔ انہوں نے ہمت کی، جسم کو اس تنگ جگہ سے گزارا اور مزید نیچے اترتے گئے۔

تقریباً 60 فٹ نیچے پہنچ کر انہیں بچی زندہ مل گئی۔ وہاں پانی بھی موجود تھا اور فضل الرحمٰن خود پانی میں ڈوبنے لگے، کیونکہ الٹا بندھے ہونے کی وجہ سے ان کا سر نیچے تھا۔ انہوں نے اوپر موجود لوگوں کو آواز دی کہ انہیں کچھ اوپر کھینچا جائے، لیکن کنویں کے منہ پر جمع لوگوں کے شور کی وجہ سے ان کی آواز اوپر نہیں پہنچ رہی تھی۔ تب انہوں نے زور زور سے آوازیں لگانے کے ساتھ رسی کو ہلانا شروع کیا تاکہ اوپر موجود ٹیم کو اشارہ مل سکے۔ اشارہ ملنے پر انہیں تھوڑا اوپر کھینچا گیا اور وہ خود کو سنبھال سکے۔

اس کے بعد فضل الرحمٰن نے خوف زدہ اور زخمی بچی کو مضبوطی سے پکڑا اور اوپر والوں کو رسی کھینچنے کا اشارہ دیا۔ واپسی بھی آسان نہیں تھی؛ جس انتہائی تنگ حصے سے وہ نیچے گئے تھے، بچی کو ساتھ لے کر وہاں سے دوبارہ گزرنا پڑا اور دونوں کئی جگہ پھنسے۔ اوپر سے چھوٹے پتھر بھی گر رہے تھے۔ لیکن رسیوں کے ذریعے آہستہ آہستہ دونوں کو اوپر کھینچا گیا اور بالآخر فضل الرحمٰن بچی کو اپنے ساتھ زندہ سلامت باہر لے آئے۔

چند لمحے پہلے جہاں بچی کے خاندان کو اس کے زندہ نکلنے کی امید تقریباً ختم ہوچکی تھی، وہاں فضل الرحمٰن کے باہر آتے ہی غم کا ماحول خوشی میں بدل گیا۔ ایک ایسے تنگ اور گہرے بور میں، جہاں پہلے دو افراد آگے نہیں بڑھ سکے تھے، فضل الرحمٰن نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر تقریباً 60 فٹ نیچے پہنچنے اور پھر بچی کو ساتھ لے کر اسی راستے سے واپس نکلنے کا خطرہ مول لیا۔

Leave a Comment