ڈاکٹر عثمان مصطفیٰ:پاکستانی غریب مریضوں کے لیے کسی مسیحا سے کم نہیں۔۔۔

گھروں میں پونچھا لگا کر روزی کمانے والی ایک خاتون کے لیے چلنا بھی تکلیف دہ ہو چکا تھا۔ سینے میں اٹھنے والا درد اسے پریشان کرتا تھا، مگر علاج کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ جب معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کے دل کی ایک شریان بند ہے اور اسٹنٹ ڈالنے کی ضرورت ہے، تو وہ رونے لگی اور ڈاکٹر سے بولی: ’’بیٹا، میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔‘‘ اس خاتون کے لیے یہ صرف بیماری کا خوف نہیں تھا، بلکہ اس بے بسی کا دکھ بھی تھا جس میں انسان کو اپنی تکلیف کا علاج تو معلوم ہو، مگر اسے کروانے کی استطاعت نہ ہو۔ اس کے سامنے موجود ڈاکٹر اس بے بسی کو سمجھتے تھے، کیونکہ ان کی اپنی زندگی بھی محرومیوں اور مشکلات سے گزر کر یہاں تک پہنچی تھی۔

یہ ڈاکٹر پاکستانی نژاد امریکی ماہرِ امراضِ قلب، ڈاکٹر محمد عثمان مصطفیٰ ہیں، جنہوں نے ڈیلی پاکستان گلوبل کے میزبان یاسر شامی کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی زندگی اور خدمت کے سفر کی تفصیل سنائی۔ ان کا تعلق ایک عام اور سادہ گھرانے سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ایسے سرکاری سکولوں سے حاصل کی جہاں بچوں کے بیٹھنے کے لیے بینچ، بلکہ بلیک بورڈ اور چاک تک میسر نہیں تھے۔ غربت اور وسائل کی کمی کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی، محنت کی اور بالآخر امریکہ پہنچ کر دل کے ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئے۔ زندگی نے انہیں آسائشیں حاصل کرنے کا موقع دیا، لیکن اپنے بچپن کی محرومیاں اور اپنے ملک کے ضرورت مند لوگ ان کے دل سے کبھی دور نہ ہوئے۔

ڈاکٹر عثمان کے مطابق، پاکستان میں ایسے بہت سے مریض ہیں جو دل کی بیماریوں کا علاج کروانے کی سکت نہیں رکھتے۔ ان کے لیے مہنگے معائنے، ادویات اور علاج کا خرچ اٹھانا ممکن نہیں ہوتا، اور بیماری کے ساتھ مالی بے بسی بھی ان کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اسی احساس نے ڈاکٹر عثمان کو اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ ان مریضوں کے لیے مختص کرنے پر آمادہ کیا۔ وہ انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ امریکہ کے ہسپتالوں میں بعض اوقات اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں اور اپنی آمدنی میں سے ہر سال تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ روپے پاکستان میں دل کے ضرورت مند مریضوں کے علاج پر خرچ کرتے ہیں۔ ان کی محنت کا حاصل صرف ان کی اپنی زندگی کی آسائشیں نہیں، بلکہ ان لوگوں کا علاج بھی ہے جو مدد کے بغیر اسے حاصل نہیں کر سکتے۔

وہ سال میں کم از کم دو مرتبہ امریکہ سے اعلیٰ معیار کے اسٹنٹس خرید کر پاکستان آتے ہیں۔ ان کے بقول، ان اسٹنٹس کی قیمت ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک ہوتی ہے، مگر مستحق مریضوں کو یہ علاج بلا معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔ اوکاڑہ اور پتوکی میں ان کی مفت ڈسپنسریاں بھی کام کرتی ہیں، جہاں ضرورت مند لوگوں کو بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کی ادویات مفت دی جاتی ہیں۔ ایسے غریب اور مستحق مریض، جن کے لیے روزمرہ کھانے کا خرچ پورا کرنا بھی مشکل ہو، ان کی انجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ ڈالنے کے علاج کا خرچ بھی ڈاکٹر عثمان اٹھاتے ہیں۔ اپنے ملک سے دور رہتے ہوئے بھی انہوں نے یہاں کے مریضوں کے ساتھ ایک ایسا تعلق قائم رکھا ہے جس کی بنیاد ان کا درد سمجھنا اور عملی طور پر مدد کرنا ہے۔

گھروں میں کام کرنے والی اس خاتون کا واقعہ سناتے ہوئے ڈاکٹر عثمان نے بتایا کہ جب انہوں نے اس کی مفت انجیوگرافی کی تو دل کی شریان میں رکاوٹ سامنے آئی۔ خاتون نے اپنی مالی بے بسی بیان کی تو انہوں نے عملے سے کہا کہ اس کا اسٹنٹ ہر حال میں مفت ڈالا جائے گا۔ علاج کے بعد جب اس کی تکلیف ختم ہوئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر ڈاکٹر کے لیے دعائیں کیں، اور وہ دعائیں آج بھی ڈاکٹر عثمان کے لیے ایک قیمتی یاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دعاؤں کی قیمت دنیا کی کوئی دولت ادا نہیں کر سکتی۔ جس خاتون کے پاس علاج کے لیے ایک پیسہ نہیں تھا، اس کی دعاؤں میں انہیں اپنی محنت اور خدمت کا ایسا صلہ ملا جسے وہ مال و دولت سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر عثمان کا پیغام ہے کہ بڑے بنگلے، مہنگی گاڑیاں اور جائیدادیں بنا لینا ہی زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ آخرکار سب نے اس دنیا سے خالی ہاتھ جانا ہے۔ ان کے نزدیک انسان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس نے اپنی صلاحیت اور وسائل سے دوسروں کے لیے کیا کیا۔ وہ ڈاکٹروں کو بھی مریضوں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور محبت سے پیش آنے کی تلقین کرتے ہیں، کیونکہ علاج میں دوا کے ساتھ ڈاکٹر کا رویہ بھی اہم ہوتا ہے۔ انٹرویو کے اختتام پر یاسر شامی انہیں ’’دل کے ڈاکٹر‘‘ کے ساتھ ’’دردِ دل کے ڈاکٹر‘‘ بھی کہتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد عثمان مصطفیٰ کی یہ کہانی ایک ایسے انسان کی مثال ہے جس نے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنی محرومیاں بھلانے کے بجائے، انہیں دوسروں کی تکلیف سمجھنے اور ان کا سہارا بننے کا ذریعہ بنا لیا۔۔۔

Leave a Comment