
لاہور میں کرائے کی گاڑی چلانے والے ایک شخص کے دل میں برسوں سے ایک خواہش تھی، لیکن اس خواہش اور اس کے درمیان پیسوں کی ایک بڑی دیوار کھڑی تھی۔ ماہانہ آمدنی صرف بیس ہزار روپے، تین بچوں کی ذمہ داری اور گھر کے اخراجات؛ ایسے حالات میں جہاز کا ٹکٹ خرید کر مکہ اور مدینہ کی حاضری دینا ان کی پہنچ سے باہر تھا۔ یہ شخص کامران بیگ ہیں، جنہوں نے ڈیلی پاکستان کے میزبان یاسر شامی کو اپنے سفر کی داستان سناتے ہوئے اپنی عمر 44 سال بتائی۔ ان کے دل میں اللہ کے گھر جانے اور روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دینے کی تڑپ تھی۔ جب سفری اخراجات کا بندوبست نہ ہو سکا تو انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کے بعد ان کی ہمت، جسمانی برداشت اور یقین کا قدم قدم پر امتحان ہونا تھا۔
کامران بیگ کے مطابق، 19 اگست 2022 کو وہ لاہور کے علاقے داروغہ والا سے اپنے سفر پر نکلے۔ اس وقت ان کی جیب میں ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔ ساتھ ایک چھوٹا سا بیگ تھا جس میں دو جوڑے کپڑے، سردی سے بچنے کی ٹوپی، چھتری اور درد کی کچھ دوائیں تھیں؛ پاؤں میں جوتے اور ساتھ پانی کی ایک بوتل تھی۔ اسی مختصر سامان اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ انہوں نے پاکستان سے سعودی عرب تک پیدل جانے کا ارادہ کر لیا۔ لاہور میں داتا دربار پر حاضری دینے کے بعد وہ آگے روانہ ہوئے۔ اب ان کے سامنے ایک طویل راستہ تھا جس میں شہر بھی آنے تھے، پہاڑ بھی، ویران علاقے بھی اور ایسے صحرا بھی جہاں چلتے رہنا ہی ایک بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔
لاہور سے ان کا راستہ مانگا منڈی، بھائی پھیرو، خانیوال، ملتان اور ڈیرہ غازی خان سے ہوتا ہوا سخی سرور اور فورٹ منرو تک پہنچا۔ پھر رکھی، کھجوری، لورالائی، کچلاک اور کوئٹہ سے گزر کر وہ نوشکی، دالبندین، نوکنڈی اور تفتان کی طرف بڑھے۔ ان کے بیان کے مطابق، ایران میں داخل ہونے کے بعد وہ میرجاوہ، زاہدان اور بم سے گزرے، پھر عراق کے راستے سعودی عرب پہنچے۔ اس سفر میں وہ روزانہ تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر پیدل چلتے تھے۔ نقشے پر ان شہروں کے نام پڑھ لینا آسان ہے، لیکن کامران کو ان کے درمیان ہر فاصلہ اپنے قدموں سے طے کرنا تھا۔ کبھی پہاڑی راستے سامنے ہوتے، کبھی تپتی زمین، اور کبھی دور تک پھیلی ویرانی۔
مسلسل چلنے اور شدید گرمی نے ان کے جسم کو بری طرح تھکا دیا۔ کامران بتاتے ہیں کہ ان کے پاؤں کے ناخن اتر گئے اور پاؤں سے خون آنے لگا، مگر سفر جاری رہا۔ راستے میں ایسی راتیں بھی آئیں جب انہیں ریت، بجری، پتھروں اور کانٹوں والی زمین پر سونا پڑا۔ دن بھر کی مسافت کے بعد آرام کے لیے بھی کوئی مناسب جگہ میسر نہیں ہوتی تھی۔ ان کے مطابق، کئی مرتبہ دل میں واپس لوٹنے کا خیال آیا اور محسوس ہوا کہ وہ بہت بڑی مشکل میں پڑ گئے ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ سے محبت اور حاضری کی خواہش انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی رہی۔ جس منزل کی خاطر وہ گھر سے نکلے تھے، اسی کا خیال ان کے لیے اگلا قدم اٹھانے کی وجہ بن جاتا تھا۔
بلوچستان کے سفر کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کامران خاص طور پر جذباتی ہوئے۔ ان کے مطابق، وہ ایک ایسی جگہ موجود تھے جہاں آبادی تقریباً سو کلومیٹر دور تھی۔ دوپہر کا وقت تھا، شدید بھوک لگی تھی اور کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے ایک مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی اور اپنی پریشانی میں مدد کی دعا کی۔ جب مسجد سے باہر نکلے تو ایک شخص انہیں تلاش کر رہا تھا، جو اپنے گھر سے ان کے لیے کھانا تیار کر کے لایا تھا۔ کامران اس واقعے کو اپنے سفر میں اللہ کی مدد کا ایک یادگار لمحہ سمجھتے ہیں۔ بھوک اور تھکن کے اس وقت میں کسی کا کھانا لے کر پہنچ جانا ان کے لیے بہت بڑا سہارا تھا، جسے وہ آج بھی اپنے سفر کی اہم یادوں میں شمار کرتے ہیں۔
تقریباً دس ماہ کے سفر کے بعد جب وہ سعودی عرب پہنچے تو، ان کے بقول، منزل قریب ہونے کی خوشی میں انہیں اپنی تھکن بھول گئی۔ مدینہ منورہ پہنچنے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں قدم رکھتے ہی انہیں ایک خاص خوشبو محسوس ہوئی اور ان کے دل میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کا خیال تازہ ہو گیا۔ روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہتے رہے۔ جس حاضری کی خواہش انہیں لاہور سے اتنی دور لے آئی تھی، وہ لمحہ اب ان کے سامنے تھا۔ انہوں نے مسجد نبوی ﷺ میں نماز ادا کرنے کی کیفیت کو جنت میں نماز پڑھنے جیسا احساس قرار دیا اور بتایا کہ وہاں انہیں ایسی عزت اور توجہ ملی جس نے اس سفر کی خوشی کو مزید بڑھا دیا۔
اپنی داستان کے آخر میں کامران بیگ نے نماز کی پابندی، بچوں کو نماز کی تلقین اور نبی کریم ﷺ کی سیرت پر عمل کرنے کا پیغام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری اصل کامیابی دینِ اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے میں ہے، اور ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات دنیا تک پہنچانی چاہییں۔ کامران کے اس سفر میں ایک عام آدمی کی شدید خواہش، مسلسل محنت، جسمانی تکلیف اور توکل کی جھلک نظر آتی ہے۔ بیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والا تین بچوں کا باپ، جو جہاز کے ٹکٹ کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تھا، اپنے بیان کے مطابق دس ماہ تک راستوں کی سختیاں برداشت کرتا ہوا مکہ اور مدینہ کی حاضری تک پہنچ گیا۔ ان کے لیے اس سفر کی سب سے بڑی خوشی وہی حاضری تھی جس کی تڑپ انہیں گھر سے لے کر نکلی تھی۔
