امجد صابری مرحوم کی میت کو غسل دیتے وقت چھیپا کے مغسل میں پیش آئے چند حیران کن واقعات ۔۔۔۔چھیپا کے سربراہ رمضان چھیپا نے ان سنی باتیں بتا دیں ۔۔۔۔ رمضان چھیپا کے مطابق امجد صابری مرحوم نے انتقال سے قبل اپنی بیگم کو وصیت کررکھی تھی کہ جب بھی میں انتقال کر جاؤں تو میری میت کو غسل بھی رمضان چھیپا دیں اور مجھے لحد میں بھی خود رمضان چھپیا اتاریں ۔۔۔ انکی اس خواہش کے احترام میں خود میں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے غسل دیا ، میں اس وقت کانپ اٹھا جب میت کو غسل دینے کے لیے بسم اللہ پڑھی تو امجد صابری مسکرانے لگے ، میں ڈر کر پیچھے ہٹ گیا اور زور سے امجد صابری کے لواحقین بھائیوں اور بیٹوں کو آواز دی جو غسل خانے کے دروازے پر کھڑے تھے ، وہ سب دوڑ کر آئے اور سب نے دیکھا امجد صابری زندہ لوگوں کی طرح مسکرا رہے تھے اس کے بعد غسل خانے میں اللہ اکبر ، درود وسلام کی وہ آوازیں بلند ہوئیں کہ یہ ایریا گونج اٹھا ان پاک آوازوں میں ہم نے امجد صابری کو غسل دیا ۔۔۔۔ رمضان چھپیا کے مطابق غسل کے وقت میں نے انکے بھائیوں اور بیٹوں کو کہا کہ آپ غسل دیں مگر وہ پیچھے ہٹ گئے کہ ہم انکی وصیت کے احترام میں پیچھے رہیں گے جو کام آپ کہیں گے ہم ہاتھ ضرور بٹائیں گے لیکن غسل آپ اپنے ہاتھوں سے دیں گے ۔۔۔اسکے بعد تدفین کے وقت بھی رمضان چھپیا نے لواحقین سے کہا کہ آکر میت کو خود ہاتھوں سے لحد میں اتاریں مگر انہوں نے مجھے اس کام کے لیے بھی آگے کردیا اور میں نے خود اپنے ہاتھوں سے اور دوسرے لوگوں کی مدد سے امجد صابری کو لحد میں اتارا ۔۔۔ رمضان چھپپا کے بقول انہیں یقین ہے کہ امجد صابری مرحوم کی کوئی ادا ضرور اللہ کریم کو بھا گئی ہو گی تبھی تو وہ غسل دیتے وقت مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم امجد صابری مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے ۔۔۔۔آمین ۔
