
: ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی سے کچلنے کے مقدمے کا مرکزی ملزم توقیر نذیر بہاولپور کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ سی سی ڈی نے ملزم کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
حکام کے مطابق توقیر نذیر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں سے اسے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ ملزم حراست سے فرار ہوگیا تھا۔ بعدازاں بہاولپور کے ناردرن بائی پاس پر پولیس نے دو موٹر سائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ پولیس کے بیان کے مطابق توقیر اپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوا، جبکہ دوسرا شخص فرار ہوگیا۔ مقابلے کی یہ تفصیلات پولیس کے مؤقف پر مبنی ہیں۔
اس خبر کے بعد بھی وسیم کی کھوئی ہوئی زندگی واپس نہیں آسکتی۔ باپ کے سائے سے محروم اس بچے کو شفقت دینے والے ہاتھ اور محفوظ چھت درکار تھی۔ اس کی دردناک موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بے سہارا بچوں کی حفاظت ہماری کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔
: 15 سالہ وسیم عباس کی ہلاکت:
1۔ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا؟
تاریخ: 19 اکتوبر 2026ء — تازہ رپورٹس: 20 اکتوبر 2026ء
اطلاعات کے مطابق واقعہ ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی رائل آرچرڈ، بلاک بی، گلی نمبر 10 میں پیش آیا، جو ڈی ایچ اے پولیس اسٹیشن کی حدود میں بتایا گیا ہے۔ وسیم عباس، ولد انصر عباس، کا تعلق ضلع مظفرگڑھ سے تھا اور اس کی عمر 15 سال بتائی گئی ہے۔ وہ الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا۔
پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، کام چھوڑ کر جانے کے معاملے پر وسیم اور ٹھیکیدار توقیر نذیر کے درمیان تنازع پیش آیا۔ الزام ہے کہ پہلے پیدل اور پھر گاڑی کے ذریعے اس کا تعاقب کیا گیا۔ گاڑی کی ٹکر سے وسیم گھر کے گیٹ یا قریبی حصے سے جا ٹکرایا اور اسے سر پر شدید چوٹیں آئیں، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
2۔ وسیم عباس کی زندگی اور خاندانی حالات
وسیم کی موت کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، اس کا بچپن پہلے ہی مشکلات سے گزرا تھا۔
- والد کا انتقال: رپورٹس میں وسیم کے والد کا نام انصر عباس بتایا گیا ہے۔ اس کے چچا جعفر حسین کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ وسیم کے والد تقریباً نو سال پہلے وفات پا گئے تھے۔
- والدہ کی دوسری شادی: خاندان اور اہلِ علاقہ سے منسوب اطلاعات کے مطابق، والد کے انتقال کے بعد وسیم کی والدہ کی شادی اس کے چچا سے کر دی گئی تھی۔
- یتیم خانے میں رہائش: وسیم اور اس کے بھائی کو نانا نے یتیم خانے میں داخل کرایا تھا۔ نانا کے مطابق، ان کا مقصد یہ تھا کہ بچے سڑکوں پر مشکلات اٹھانے کے بجائے تعلیم حاصل کر سکیں۔
- کزن کی گفتگو: وسیم کے کزن ندیم نے بتایا کہ وسیم تقریباً چھ سال سے یتیم خانے میں رہ رہا تھا۔ اس کے مطابق، وسیم شرارتیں کرتا تھا اور کبھی کہتا تھا کہ وہ الیکٹریشن کا کام نہیں سیکھنا چاہتا بلکہ گھر واپس جانا چاہتا ہے۔
یہ تفصیلات خاندان کے افراد اور میڈیا رپورٹس سے منسوب ہیں۔ خاندان کی صورتِ حال کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی۔
3۔ وسیم کو الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے کیوں بھیجا گیا تھا؟
یتیم خانے کی انتظامیہ کے مطابق، وسیم کو ہنر سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا، جو مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا۔
ملتان کے سٹی پولیس افسر اختر فاروق کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، وسیم کو واقعے سے تقریباً سات روز پہلے کام سیکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق، اس سے پہلے بھی یتیم خانے کے کچھ بچے توقیر کے پاس ہنر سیکھنے جاتے رہے تھے۔
وسیم کے کزن ندیم کا کہنا تھا کہ کام سیکھنے کے لیے جانے کے بعد وسیم باقاعدگی سے واپس نہیں آتا تھا۔ وہ یہ بھی کہتا تھا کہ اسے کام پر نہیں جانا بلکہ گھر واپس جانا ہے۔ تاہم، دستیاب رپورٹس سے یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ وہ گھر واپس کیوں جانا چاہتا تھا اور کام کی جگہ پر اس کے ساتھ پہلے کیا پیش آیا تھا۔
4۔ واقعے کے دن کیا ہوا؟ — پولیس اور ایف آئی آر کے مطابق
مختلف میڈیا رپورٹس اور مقدمے کی تفصیلات کے مطابق واقعات کی ترتیب کچھ یوں بیان کی گئی ہے:
- کام چھوڑ کر جانا: وسیم مبینہ طور پر کام کی جگہ سے نکل کر جانے لگا، جس کے بعد اس کا ٹھیکیدار کے ساتھ تنازع ہوا۔
- پیدل تعاقب: رپورٹس کے مطابق، توقیر نے پہلے اسے پیدل پکڑنے کی کوشش کی۔
- گاڑی میں تعاقب: اس کے بعد گاڑی کے ذریعے وسیم کا پیچھا کیے جانے کا الزام ہے۔ بعض رپورٹس میں امجد علی نامی دوسرے شخص کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
- گاڑی کی ٹکر: گاڑی وسیم سے ٹکرائی اور وہ گھر کے گیٹ یا ستون سے جا لگا۔ اسے سر پر شدید چوٹ آئی اور اس کی موقع پر موت ہوگئی۔
- پولیس کارروائی: ریسکیو اور پولیس موقع پر پہنچے، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں مقدمہ درج کرکے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ تفصیلات پولیس کے ابتدائی مؤقف، ایف آئی آر اور اخباری رپورٹس پر مبنی ہیں؛ واقعے کے تمام پہلوؤں کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی سے ہوگا۔
5۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں کیا سامنے آیا؟
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا ذکر متعدد معتبر میڈیا اداروں نے کیا ہے۔ ڈان کی 20 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، فوٹیج میں لڑکا گاڑی کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ گاڑی اس کا پیچھا کرکے اسے ٹکر مارتی ہے۔
اس فوٹیج نے واقعے کے ارادے اور حالات سے متعلق سوالات کو اہم بنا دیا ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر ویڈیو کے اصل، مکمل دورانیے اور سیاق و سباق کی الگ تصدیق ضروری ہے۔ ویڈیو کو اکیلے دیکھ کر ہر قانونی پہلو کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
6۔ گرفتار ملزم توقیر نذیر کا کیا بیان سامنے آیا؟
ملزم توقیر نذیر سے منسوب ابتدائی بیان کے مطابق، وسیم اس کے پاس الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا اور اکثر کام چھوڑ کر چلا جاتا تھا۔ ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے گاڑی کے ذریعے اس کا پیچھا اسے روکنے اور پکڑنے کے لیے کیا تھا۔
دوسری جانب، ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ گاڑی جان بوجھ کر وسیم کی طرف چلائی گئی۔ ہم انگلش کی رپورٹ کے مطابق، مقدمے میں توقیر نذیر اور امجد علی دونوں کے نام شامل کیے گئے، جبکہ توقیر کے بیان میں گاڑی پھسلنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا۔
Disclaimer:⚠️
This post is shared for informational and news purposes only.
