
ایران: 23 سالہ طالبہ کو نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی پر عدالت نے سزا۔ئے موت سنا دی ، 31 جنوری کو گرفتاری کے بعد سے مشہد کی وکیل آباد جیل میں بند نجمہ امینی پر الزام ہے کہ اس نے سوشل میڈیا پر نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی کی تھی ، اس سے پہلے نجمہ امینی پر الزام تھا کہ اس نے مظاہروں کے دوران لوگوں کو بھڑکایا اور بغاوت پر اکسایا اور ساتھ ہی سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی بعد میں دوران تفتیش ملزمہ نجمہ امینہ کو گستاخی رسول ؐ کا مرتکب پایا گیا دونوں مقدمات میں ملزمہ کو عدالت نے چھان بین اور متعدد سماعتوں کے بعد جرائم کا مرتکب قرار دیا ، پہلے کیس میں نجمہ امینی کو 12 سال قید جبکہ گستاخی رسول ؐ پر اسے پچھلے ماہ سزا۔ئے موت سنا دی گئی ہے . یاد رہے کہ سزا۔ئے موت سنانے کے بعد نجمہ امینی کی ایک لیک آڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے جس میں اس نے ایران کے شہریوں سے اپنے لیے آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے ، نجمہ کا آڈٰیو میں کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہے اسکا جرم صرف ایران کی آزادی کے لیے آواز بلند کرنا ہے وہ نوجوان ہے وہ ابھی مرنا نہیں چاہتی ، ایران کے لوگ اسے مرنے نہ دیں بلکہ اسکی زندگی کی خاطر آواز بلند کریں
