جب نور جہاں کے خاوند کی وصیت پر انہیں انکے بنائے گئے اسٹوڈیو میں دفن کر دیا گیا۔۔۔

ملکہ ترنم نور جہاں اور معروف ہدایت کار و فلم ساز سید شوکت حسین رضوی کا رشتہ برصغیر کی فلمی تاریخ کا ایک یادگار اور عہد ساز باب ہے۔ شوکت حسین رضوی نے بطور ہدایت کار اپنی پہلی بڑی فلم ‘خاندان’ (1942ء) بنائی، جس میں نور جہاں نے بطور ہیروئن کام کیا۔ یہ فلم انتہائی کامیاب رہی اور اسی دوران دونوں کے درمیان محبت کا آغاز ہوا جس کے بعد 1944ء میں دونوں نے شادی کر لی۔ شادی کے بعد انہوں نے بمبئی میں ‘نوکر’ اور ‘زینت’ جیسی کامیاب فلموں میں ساتھ کام کیا۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے وقت یہ جوڑا اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گیا اور لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ لاہور آکر انہوں نے پاکستان کی نوائیدہ فلمی صنعت کو پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے شاہ نور اسٹوڈیو قائم کیا، جس کا نام ان دونوں کے ناموں (شوکت اور نور) کو ملا کر رکھا گیا تھا۔
لاہور کا تاریخی شاہ نور اسٹوڈیو پاکستانی سنیما کے سنہری دور کا مرکز رہا ہے جہاں برصغیر اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے یادگار اور ریکارڈ ساز فلمیں بنائی گئیں۔ اس عظیم اسٹوڈیو میں بننے والی چند سپر ہٹ اور کلاسک فلموں میں سب سے پہلا نام ‘چن وے’ (1951ء) کا ہے، جو اس اسٹوڈیو کی ریلیز ہونے والی سب سے پہلی پنجابی فلم تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اسے سید شوکت حسین رضوی اور ملکہ ترنم نور جہاں نے مل کر ڈائریکٹ کیا تھا کیونکہ شوکت رضوی پنجابی روانی سے نہیں بول سکتے تھے۔ فیروز نظامی کی لازوال موسیقی سے سجی اس فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور پاکستان میں نور جہاں کی شہرت کو بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس کے فوراً بعد ‘دوپٹہ’ (1952ء) بنائی گئی جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اسے پاکستانی سنیما کی ابتدائی کامیاب ترین اردو فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں جب شاہ نور اسٹوڈیو اپنے عروج پر تھا، تو وہاں برصغیر کی لوک داستان پر مبنی شاہکار فلم ‘ہیر رانجھا’ (1970ء) کی شوٹنگ اور تیاری ہوئی۔ فردوس اور اعجاز کی جاندار اداکاری اور مسعود رانا اور نور جہاں کے گائے ہوئے گیتوں نے اس فلم کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا。 اسی طرح چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی بلاک بسٹر فلم ‘ارمان’ (1966ء) اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی کلاسک رومینٹک فلم ‘آئینہ’ (1977ء) کے کئی اہم حصے، گانے اور تکنیکی کام اسی اسٹوڈیو کی بدولت مکمل ہوئے۔ ان فلموں نے شبنم، محمد علی، اور ندیم جیسے عظیم اداکاروں کو برصغیر کے افق پر چمکایا اور شاہ نور اسٹوڈیو کو ایک ایسی فیکٹری بنا دیا جس نے سالہا سال تک مداحوں کو لازوال کہانیاں اور سحر انگیز موسیقی فراہم کی

یہ اسٹوڈیو طویل عرصے تک پاکستانی فلموں کا سب سے بڑا مرکز رہا۔ اس شادی سے ان کے تین بچے پیدا ہوئے جن میں اکبر حسین رضوی، اصغر حسین رضوی اور معروف گلوکارہ ظلِ ہما شامل ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں کے ازدواجی تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو گئیں اور بالآخر 1953ء میں ان کے درمیان طلاق ہو گئی۔ طلاق کے وقت نور جہاں نے اپنے بچوں کی تحویل حاصل کرنے کے بدلے شاہ نور اسٹوڈیو میں اپنے تمام حصص (شیئرز) شوکت رضوی کے نام کر دیے تھے۔ علیحدگی کے بعد نور جہاں نے اداکار اعجاز درانی سے جبکہ شوکت رضوی نے اداکارہ یاسمین سے دوسری شادی کر لی تھی۔ شوکت حسین رضوی 1999ء میں اپنی وفات تک شاہ نور اسٹوڈیو سے وابستہ رہے اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں اسی اسٹوڈیو کے احاطے میں ہی سپردِ خاک کیا گیا۔

یہاں پر ہی نور جہاں اور سید شوکت کی صاحبزادی ظل ہماء کی قبر بھی ہے

ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن یوٹیوب فیس بک ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں۔ ناشر پر اس پوسٹ سے قارئین کی جانب سے کسی بھی قسم کی کوئی قانونی و اخلاقی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی

Leave a Comment