
وہ اپنے کام پر جانے کے لیے نکلے تھے، مگر راستے میں ایک تباہ شدہ عمارت کے قریب رک گئے۔ اپنی موٹر سائیکل ایک دکان کے سامنے کھڑی کی اور ملبے تلے پھنسے لوگوں کو بچانے میں لگ گئے۔ اس شخص کا نام محمد اعجازالدین چودھری کیکوباد تھا۔
24 اپریل 2013 کو بنگلہ دیش کے علاقے ساور میں رانا پلازا کی عمارت گر گئی۔ اس عمارت میں کپڑے بنانے کی فیکٹریاں بھی تھیں اور بڑی تعداد میں کارکن ملبے تلے دب گئے۔ اگلے روز 35 سالہ کیکوباد وہاں پہنچے اور رضاکارانہ طور پر امدادی کارروائیوں میں شامل ہوگئے۔ وہ تعمیراتی کام سے وابستہ تھے، لیکن اب اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو باہر نکال رہے تھے۔ ان کا دبلا پتلا جسم انہیں ملبے کے ایسے تنگ راستوں میں داخل ہونے میں مدد دیتا تھا جہاں سے گزرنا انتہائی مشکل تھا۔ ساتھی امدادی کارکنوں اور خاندان کے مطابق، انہوں نے کم از کم 26 افراد کو زندہ نکالا۔ یہ تعداد دی ڈیلی اسٹار کی اُس وقت کی رپورٹ میں انہی کے حوالے سے درج ہے۔
گھر میں ان کی بیوی اور دو بچے بھی ان کے منتظر تھے۔ ان کی اہلیہ نے بعد میں بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران شوہر سے بہت کم بات ہوسکی۔ کیکوباد نے انہیں بتایا تھا کہ وہ ابھی گھر نہیں آسکتے، کیونکہ وہاں رہ کر لوگوں کی جانیں بچا سکتے ہیں۔ ان کی بہن کے مطابق، بچپن سے ان کی عادت تھی کہ کسی کو مشکل میں دیکھتے تو مدد کے لیے آگے بڑھ جاتے۔ رانا پلازا کے ملبے میں بھی وہ مسلسل اسی کوشش میں مصروف رہے۔
پھر شاہینہ اختر نامی ایک گارمنٹ کارکن کو نکالنے کی کوشش شروع ہوئی۔ وہ ملبے میں زندہ پھنسی ہوئی تھیں، مگر ان کے گرد جگہ اتنی تنگ تھی کہ امدادی کارکن انہیں باہر نہیں نکال پا رہے تھے۔ ان تک آکسیجن اور طبی مدد پہنچائی گئی، جبکہ راستہ کشادہ کرنے کی کوشش جاری رہی۔ 28 اپریل کی رات کیکوباد بھی دوسرے امدادی کارکنوں کے ساتھ اسی کوشش میں اندر موجود تھے۔ لوہے کی سلاخ کاٹنے کے دوران نکلنے والی چنگاریوں سے ملبے کے اندر آگ بھڑک اٹھی۔ کیکوباد شدید جھلس گئے اور شاہینہ کو زندہ باہر نکالنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ اگلے روز ان کی لاش ملبے سے نکالی گئی۔
اب دوسروں کو بچانے والا شخص خود زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ کیکوباد کو ڈھاکا کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ اُس وقت کی رپورٹس کے مطابق، ان کے جسم کا تقریباً 55 فیصد حصہ جھلس چکا تھا۔ حالت کی سنگینی کے باعث انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں علاج جاری رہا۔ لیکن شدید زخموں کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکے اور انتقال کرگئے۔
ان کی میت بنگلہ دیش واپس لائی گئی اور ڈھاکا کے بنانی قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین ہوئی۔ پیچھے ان کی اہلیہ، سات سالہ بیٹی اور چار سالہ بیٹا رہ گئے۔ چند ماہ بعد ان کے خاندان نے ایک خواہش ظاہر کی کہ کیکوباد کی بہادری کو یاد رکھا جائے، ان کی قربانی وقت کے ساتھ بھلا نہ دی جائے۔
