جب ایک تھپڑ نے اداکار مستانہ کی زندگی بدل دی تھی۔۔۔

یہ لحد ایک معروف اداکارمستانہ کی ہے جو اسٹیج کا بے تاج بادشاہ تھا۔ مسکراہٹیں بکھیرنے والی بات اس کے منہ سے جچتی تھی ۔وہ سٹیج ڈرامہ دیکھنے کےلیے آنے والے مجمع کو خوشیاں بانٹنا اور ہنسانا خوب جانتا تھا ۔لیکن پنجاب پولیس کے ذلت آمیز سلوک کا وہ بھی شکار بنا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ …..
ایک دن پنجاب پولیس نے اسٹیج ڈرامے کو بند کروانے کے لیے ریڈ کیا ۔مستانہ بھی اس اسٹیج پر موجود تھا اس اسٹیج پر مستانہ کئی سال سے لوگوں کو اپنی پر لطف باتوں جگتوں اور اداکاری سے خوش کرتا اور ہنساتا تھا۔ایک پولیس سپاہی نے اسٹیج پر چڑھ کر مستانہ کے منہ پر زور سے تھپڑ مارنا ہی چاہا کہ وہ بول کہ جناب
میں مستانہ واں۔۔۔
آگے سے حقارت بھرا جواب آیا !
تیرے مستانے دی …….!!!!!
مستانے کے اندر چھن کر کے کوئی چیز ٹوٹی۔۔ ذلت آمیز سلوک نے اس کی روح تک کو زخمی کر دیا تھا اور وہ اسی وقت آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ سٹیج سے اتر کر گمنامی کے اندھیروں میں کہیں گم ہو گیا “کہ اتنے سال پیار ہنسی اور مسکراہٹیں بانٹنے پر تھپڑ اور گالی ہی کھانی ہے تو کیا فائدہ ایسے کام کا۔۔۔۔
جس میں ہم اپنے پیاروں کے جنازے چھوڑ کر سٹیج پر لوگوں کو ہنسانے اور خوشی بانٹنے آتے ہیں اور دو ٹکے کا پولیس اہلکار بغیر کسی قصور کے ہماری تذلیل کر دے ____
مستانہ پھر کبھی کس مزار کبھی کسی تکیے کبھی کسی ویرانے میں پایا جاتا اور آخر کچھ عرصہ بعد بہاولپور کے ہسپتال میں گمنامی کی موت مر گیا ۔۔۔
وہ ایسی تذلیل اور گمنام موت کا حقدار بالکل نہیں تھا۔ مگر کیا کیجیے کہ ہمارے دیس کا چلن ہی ایسا ہے ۔۔۔😢😢😢
آج کے دن مستانہ اس بے حس دنیا سے ہمیشہ کےلیے رخصت ہوا تھا۔

Leave a Comment