آگ میں لپٹی وین کے شیشے توڑ کر تقریباً 18افراد کو باہر نکالنے والے پاکستانی ہندو کمار بھیل کی داستان:

ایک عام سا موٹر سائیکل سوار اپنے راستے پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر آگ میں لپٹی ایک مسافر وین پر پڑی۔ اندر لوگ پھنسے ہوئے تھے، چیخ و پکار مچی ہوئی تھی اور بڑھتی ہوئی آگ نے ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی تھیں۔ اسی موقع پر اس موٹر سائیکل سوار نے رک کر ان لوگوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ شخص سندھ کے ضلع تھرپارکر سے تعلق رکھنے والا پاکستانی ہندو نوجوان کمار بھیل تھا۔ اس نے اپنی موٹر سائیکل روکی اور جلتی ہوئی وین کی طرف بڑھا۔ سامنے موجود خطرے کے باوجود وہ مسافروں کو باہر نکالنے کی کوشش میں لگ گیا۔

واقعے کی بیان کردہ تفصیلات کے مطابق، وین کی بند کھڑکیاں اندر موجود لوگوں کے باہر نکلنے میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔ کمار نے شیشے توڑ کر ان کے نکلنے کا راستہ بنایا اور ایک ایک کرکے مسافروں کو باہر نکالنا شروع کیا۔ شیشے توڑنے اور مسافروں کو باہر آنے میں مدد دینے کے دوران اسے خود بھی آگ سے نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ اس کے باوجود وہ لوگوں کو باہر نکالنے میں مصروف رہا۔ ایک ایک مسافر کا وین سے باہر آنا اس کوشش کو نتیجے تک پہنچا رہا تھا۔

30 نومبر 2020 کو شائع ہونے والی ہماری ویب کی ایک خبر کے مطابق، وین میں تین خواتین ڈاکٹرز سمیت 18 افراد موجود تھے، جنہیں کمار نے بچایا۔ کچھ مسافر آگ سے زخمی بھی ہوئے، لیکن انہیں گاڑی سے زندہ باہر نکال لیا گیا۔ ان لوگوں کے لیے کمار کا وہاں رکنا اور مدد شروع کرنا بے حد اہم ثابت ہوا۔ یہ واقعہ ہمیں ایک ایسے شخص کی کوشش دکھاتا ہے جس نے راستے میں پیش آنے والی مصیبت کو دیکھ کر فوری طور پر دوسروں کی جان بچانے کی ذمہ داری اٹھائی۔

بعد میں کمار بھیل کی اس جرات کا ذکر سوشل میڈیا پر پھیلا تو لوگوں نے اسے ریئل لائف ہیرو کہہ کر خراج تحسین پیش کیا۔ سلام ہے کمار بھیل کی اس بہادری کو، جس نے خطرے میں گھرے لوگوں کی مدد کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دی!

Leave a Comment