
صرف اس لیے کہ سر پر رکھا دوپٹہ نہ اترے، ایک خاتون نے ہزاروں ڈالرز کی نوکری چھوڑ دی۔ انشاءاللہ اس قربانی پر اللہ تعالی اس کو لازوال رزق عطا فرمائے گا۔
بیلجیم میں ایک خاتون ٹیچر کی کہانی سامنے آئی ہے جو خصوصی بچوں کو پڑھاتی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق حاتیس اماجود نے 2022 میں خصوصی تعلیم کے شعبے میں کام شروع کیا اور 2024 میں انہیں مستقل ملازمت مل گئی۔ یعنی برسوں کی محنت کے بعد زندگی میں وہ استحکام آ چکا تھا جس کا خواب ہر کوئی دیکھتا ہے۔ مگر پھر سرکاری ملازمین کے لیے نمایاں مذہبی علامات پر پابندی کا قانون آڑے آ گیا۔ انہیں کہا گیا کہ یا حجاب اتار دیں یا نوکری چھوڑ دیں۔ انہوں نے نوکری کی قیمت پر اپنے ایمان کو چن لیا۔
ذرا سوچیے، ایک طرف ماہانہ تنخواہ، مستقل ملازمت اور مستقبل کی ضمانت تھی، اور دوسری طرف ایک کپڑا جو ان کے لیے محض کپڑا نہیں، ان کی شناخت اور اللہ سے تعلق کی علامت تھا۔ انہوں نے کہا کہ حجاب ان کے پیشہ ورانہ فرائض میں رکاوٹ نہیں بنتا اور وہ ہر مذہب کے بچوں کو بغیر کسی فرق کے پڑھانا چاہتی ہیں۔ یہ وہ ٹیچر تھیں جن کا کام ان بچوں کو سہارا دینا تھا جنہیں سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو استاد بچوں کو مذہب سے بالاتر ہو کر پڑھانا چاہے، کیا وہ واقعی تعلیم کی غیر جانبداری کے لیے خطرہ ہے؟
آخر میں اصل سبق یہ ہے کہ ایمان کی قیمت اکثر آسائشوں سے چکانی پڑتی ہے، اور جو لوگ یہ قیمت چکانے کا حوصلہ رکھتے ہیں وہی دوسروں کے لیے مثال بنتے ہیں۔ حاتیس نے ہمیں یاد دلایا کہ رزق کا وعدہ اللہ کا ہے، نوکری تو ذریعہ ہے۔ آج ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ جب ہمارے اصولوں اور ہماری سہولت کا ٹکراؤ ہوگا تو ہم کس کو چنیں گے؟ آپ کے خیال میں ایسے حالات میں مسلمان خواتین کے حقوق کا تحفظ کیسے ممکن ہے؟
Disclaimer: The lower pic is Ai generated just for understanding purposes.
