
صبح کے وقت گوجرانوالہ کی سیشن کورٹ میں کرسیوں کے پاس ایک شاپر پڑا تھا۔ جوتے پالش کرنے والے برہان پٹھان کی نظر اس پر پڑی تو انہوں نے اسے اٹھایا۔ ہاتھ لگانے پر اندر کی چیز نرم محسوس ہوئی، لیکن جب شاپر کھول کر دیکھا تو اس میں نوٹوں کی گڈیاں موجود تھیں۔ برہان کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنے پیسے ایک ساتھ نہیں دیکھے تھے، اس لیے ایک لمحے کے لیے گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ روز محنت کر کے گزارا کرنے والے اس شخص کے سامنے اچانک ایک بڑی رقم آ گئی تھی، اور ساتھ ہی اس کی دیانتداری کا ایک بڑا امتحان بھی۔
برہان پٹھان کے مطابق وہ گزشتہ 28 سال سے سیشن کورٹ میں جوتے پالش کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ محنت اس وقت شروع کی تھی جب ان کی عمر صرف سات یا آٹھ سال تھی۔ بچپن سے اسی کام کے ذریعے روزی کمانے والے برہان روزانہ تقریباً پندرہ سو سے دو ہزار روپے کما لیتے ہیں۔ ان کی اپنی آمدنی محدود تھی، مگر شاپر ملتے ہی انہوں نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ یہ رقم جس کی امانت ہے، اسی تک پہنچانی ہے۔ وہ شاپر انہوں نے اپنے پاس محفوظ رکھا اور اس کے مالک کا انتظار کرنے لگے۔
تقریباً 40 سے 45 منٹ گزرنے کے بعد ایک سینیئر وکیل پریشانی کی حالت میں وہاں پہنچے اور گم ہونے والے شاپر کے بارے میں پوچھنے لگے۔ برہان نے فوراً شاپر حوالے کرنے کے بجائے تصدیق کے لیے ان سے پوچھا کہ اس میں کیا تھا۔ وکیل نے بتایا کہ شاپر میں 30 لاکھ روپے موجود تھے۔ اس پر برہان نے انہیں تسلی دی کہ ان کی رقم محفوظ ہے، اور پورا شاپر ان کے حوالے کر دیا۔ جس شخص کی روزانہ کی کمائی پندرہ سو سے دو ہزار روپے تھی، اس نے اپنے پاس آئے ہوئے 30 لاکھ روپے میں سے کچھ بھی رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے لیے وہ دولت کسی اور کی امانت تھی، جسے واپس کرنا ضروری تھا۔
انٹرویو میں جب برہان سے پوچھا گیا کہ کیا ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ اتنی بڑی رقم اپنے پاس رکھ لیں، تو انہوں نے جواب دیا: “اللہ جانتا ہے، میں نے اسی وقت دل میں عہد کر لیا تھا کہ جس کی امانت ہے اسے واپس کرنی ہے۔” انہوں نے اپنی اس سوچ کی وجہ بھی بتائی کہ انسان کو ایک دن مر کر قبر میں جانا ہے اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ برہان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو صرف رزقِ حلال کھلانا چاہتے ہیں۔ ان کی بات میں ایک محنت کش باپ کی وہ خواہش تھی کہ گھر میں جو بھی آئے، اپنی محنت اور جائز کمائی سے آئے۔
اس گفتگو میں ایک سوال یہ بھی ہوا کہ کیا رقم کے مالک نے انہیں اس ایمانداری پر کوئی انعام دیا؟ برہان نے بتایا کہ جس وکیل کے پیسے تھے، انہوں نے کوئی انعام نہیں دیا۔ البتہ واجد بٹ اور دیگر دوستوں نے ان کی دیانتداری کو سراہا، حوصلہ افزائی کی اور مالی تعاون بھی کیا۔ وہاں موجود دوسرے وکلاء اور لوگوں نے بھی برہان کے عمل کی بھرپور تعریف کی۔ ان کے نزدیک آج کے دور میں اتنی بڑی رقم صحیح سلامت واپس کرنا ایک ایسی مثال ہے جسے معاشرے کے سامنے لانا چاہیے۔
برہان پٹھان کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمانداری کا تعلق کسی کی آمدنی، پیشے یا ظاہری حیثیت سے نہیں، اس کے کردار سے ہوتا ہے۔ جوتے پالش کرنے والے اس محنت کش نے اپنے عمل سے دکھایا کہ محدود وسائل کے باوجود انسان اپنے اصولوں پر قائم رہ سکتا ہے۔ اپنی ضرورتیں ہونے کے باوجود کسی دوسرے کی امانت محفوظ رکھنا اور اس کے اصل مالک تک پہنچانا قابلِ احترام عمل ہے۔ برہان پٹھان کی اس دیانتداری کو سلام، اور ان تمام محنت کشوں کو بھی جو اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کمانے کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
ماخذ: اردوپوائنٹ
