پاکستان میں موجود حضرت نوح کے بیٹے حضرت حام کی قبرمبارک،جب انسانیت کی شروعات نئے سرے سے ہوئی تھی۔۔۔

طوفانِ نوح، انسانیت کی دوسری شروعات اور پاکستان میں موجود تاریخی قبر!
حضرت نوح علیہ السلام کو تاریخ میں “آدمِ ثانی” (یعنی انسانیت کے دوسرے باپ) کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جب وہ عظیم طوفان آیا جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تو کشتی میں سوار ہونے والے چند اہلِ ایمان ہی محفوظ رہے۔
طوفان تھمنے کے بعد، اس روئے زمین پر انسانیت کی نسل دوبارہ حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں سے آگے بڑھی، جن کے نام سام، حام، اور یافث تھے۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ دنیا کے مختلف خطوں میں انہی تین بیٹوں کی نسلیں آباد ہوئیں۔
تصویر میں نظر آنے والا یہ حیران کن منظر پاکستان کے ضلع جہلم (علاقہ غریب وال) میں موجود ایک انتہائی طویل قبر کا ہے، جس کی لمبائی تقریباً 78 فٹ ہے۔ مقامی روایات اور صدیوں پرانی عقیدت کے مطابق، اس تاریخی قبر کو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے “حضرت حام” سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ماضی میں ایسی غیر معمولی طویل قبریں قد بتانے کے لیے نہیں، بلکہ ان عظیم ہستیوں کے بے پناہ احترام اور روحانی مرتبے کو ظاہر کرنے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔
یہاں اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال بھی آتا ہے کہ خود حضرت نوح علیہ السلام کی قبر مبارک کہاں ہے؟
دیگر قدیم انبیاء کی طرح، ان کے روضہ مبارک کے حتمی مقام پر بھی تاریخ دانوں کی مختلف آراء ہیں۔ تاہم، دو مقامات بہت مشہور ہیں: ایک روایت کے مطابق ان کا روضہ ‘اردن’ (Jordan) کے شہر کرک میں ہے، جبکہ ایک اور انتہائی مشہور روایت کے مطابق ان کی آخری آرام گاہ عراق کے شہر ‘نجفِ اشرف’ میں ہے (جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا روضہ مبارک بھی موجود ہے)۔
ایسے تاریخی مقامات کی زیارت انسان کو تاریخ کے ان عظیم ادوار میں لے جاتی ہے، جن کا ذکر ہم صرف
کتابوں میں پڑھتے ہیں۔

(نوٹ: اس طویل قبر کو مقامی اور صدیوں پرانی روایات کی بنیاد پر حضرت حام سے منسوب کیا جاتا ہے، البتہ مستند تاریخی حوالوں سے اس کی قطعی تصدیق نہیں ملتی۔ انبیاء اور ان کی اولاد کے مقامات کا حقیقی علم صرف اللہ کی ذات کو ہے۔ یہ پوسٹ خالصتاً تاریخی معلومات اور آگاہی کے لیے شیئر کی گئی ہے۔)

Leave a Comment