
نرمل کور اپنے بچھڑے ہوئے بھائی کو یاد کرتیں تو ان کی آنکھیں بھر آتیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کس حال میں ہوگا، کہاں ہوگا اور زندہ بھی ہوگا یا نہیں۔ برس گزرتے گئے، زندگی آگے بڑھتی رہی، لیکن بھائی کی جدائی کا دکھ ان کے دل میں موجود رہا۔ انہوں نے انٹرویو میں بتایا کہ بھائی کی یاد انہیں بہت رلاتی تھی، مگر اتنی طویل جدائی کے باوجود انہوں نے ملنے کی امید نہیں چھوڑی۔ ایک طرف بچھڑنے کا درد تھا اور دوسری طرف یہ خواہش کہ کسی طرح اپنے بھائی کی خبر مل جائے، اسے دیکھ سکیں اور جان سکیں کہ ان کے جدا ہونے کے بعد اس پر کیا گزری۔
اس جدائی کی کہانی 1947 کی تقسیم سے شروع ہوتی ہے، جب بدامنی اور خون خرابے کے دوران بے شمار خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے۔ نرمل کور کا خاندان بھارت پہنچ گیا، جبکہ ان کے بھائی موہن سنگھ پاکستان میں رہ گئے۔ موہن اس وقت تقریباً چھ سال کے تھے اور اس ہنگامہ خیز دور میں اپنے والدین کو بھی کھو چکے تھے۔ پاکستان میں ایک مقامی خاندان نے انہیں اپنا کر پالا، اور وہ بعد میں عبدالخالق کے نام سے زندگی گزارنے لگے۔ ادھر نرمل کور اور ان کے رشتے دار وقت کے ساتھ کینیڈا جا بسے، لیکن خاندان میں بچھڑے ہوئے موہن کا ذکر اور انہیں تلاش کرنے کی خواہش برقرار رہی۔ بہن اور بھائی نے اپنی اپنی زندگیاں گزاریں، اپنے خاندان بنائے، مگر ان کے درمیان بچپن میں ٹوٹ جانے والا رابطہ کئی دہائیوں تک بحال نہ ہو سکا۔
اس تلاش میں بالآخر یوٹیوب اور سوشل میڈیا ایک اہم ذریعہ بنے۔ بھارتی پنجاب کے یوٹیوبر ہرجیت سنگھ نے موہن کے چچا سرون سنگھ کا انٹرویو کیا، جس میں انہوں نے اپنے گمشدہ بھتیجے کی کہانی اور اس کی شناخت کی نشانیاں بیان کیں۔ دوسری جانب پاکستانی یوٹیوبر محمد جاوید اقبال نے عبدالخالق کی کہانی سامنے رکھی۔ آسٹریلیا میں مقیم گردیو سنگھ نے دونوں ویڈیوز دیکھیں اور ان میں بیان ہونے والی تفصیلات کی مماثلت پر خاندانوں کے درمیان رابطہ کروانے میں مدد کی۔ پھر ویڈیو کال کا انتظام ہوا۔ موہن کے ایک ہاتھ میں دو انگوٹھے اور ران پر موجود پیدائشی نشان ان کی شناخت کی اہم کڑیاں بنے، کیونکہ خاندان کو یہ نشانیاں یاد تھیں۔ یوں برسوں کی تلاش کو ایک ٹھوس سراغ ملا اور دونوں طرف کے رشتے داروں کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی۔
نرمل کور نے بھی سوشل میڈیا کی ویڈیو کے ذریعے اپنے بھائی کو پہچانا، اور پھر ان سے ملنے کے لیے پاکستان آئیں۔ جس بھائی کے بارے میں برسوں سے صرف سوال اور یادیں تھیں، اب اس سے آمنے سامنے ملاقات کی راہ نکل آئی تھی۔ کرتارپور نے بچھڑے ہوئے خاندان کے ملنے میں اہم کردار ادا کیا، اور 2022 میں تقریباً پچھتر سال کی جدائی کے بعد بہن بھائی کا ملاپ ہوا۔ نرمل کور نے اس ملاقات کی کیفیت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ خوشی اتنی زیادہ تھی کہ اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل تھا۔ وہ بہت روئے، لیکن اس بار ان آنسوؤں میں اپنے بھائی کو پا لینے کی خوشی بھی شامل تھی۔ بچھڑنے کا غم اپنی جگہ موجود تھا، مگر اب ان کے سامنے وہ اپنا تھا جس کی خبر پانے کے لیے انہوں نے عمر بھر امید سنبھال کر رکھی تھی۔
اس ملاقات نے ساتھ آنے والے خاندان کے افراد کے احساسات بھی بدل دیے۔ اردو پوائنٹ کے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان آنے سے پہلے انہیں کچھ خوف محسوس ہوتا تھا، لیکن یہاں اپنے بچھڑے ہوئے خاندان سے مل کر انہیں یوں لگا جیسے پورا پاکستان ہی ان کا اپنا ہو۔ بھائی کے خاندان میں بھی بہن کی آمد کی خبر سن کر بے حد خوشی ہوئی۔ ایک طرف پچھتر برس کی جدائی تھی اور دوسری طرف وہ رشتہ، جس کی محبت اتنے عرصے بعد بھی قائم تھی۔ نرمل کور کے لیے اپنے بھائی کو سامنے دیکھنا اس طویل انتظار کا سب سے قیمتی لمحہ تھا؛ اب انہیں اس کی خیریت جاننے کے لیے اندازے نہیں لگانے تھے، وہ خود اس سے مل سکتی تھیں، بات کر سکتی تھیں اور اپنے دل میں برسوں سے جمع جدائی کا دکھ بانٹ سکتی تھیں۔
ماخذ: اردو پوائنٹ — اور مجموعی ریسرچ۔
