7 جون 2021 کی رات سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب دو مسافر ٹرینوں کے خوفناک تصادم کی آواز نے ریلوے لائن سے تقریباً 500 میٹر دور رہنے والے 63 سالہ علی نواز اور ان کے خاندان کو نیند سے جگا دیا۔ علی نواز کے مطابق دھماکے جیسی آواز اتنی شدید تھی کہ پورا خاندان گھبرا کر باہر نکلا۔ جب وہ ریلوے لائن کے قریب پہنچے تو تباہ شدہ بوگیوں میں پھنسے مسافروں کی مدد کے لیے پکارنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
حادثے کی جگہ دور دراز علاقے میں تھی، موبائل فون کے سگنلز کمزور اور سڑکوں کا نظام بھی ناقص تھا، اس لیے باقاعدہ امدادی ٹیموں کو وہاں پہنچنے میں کئی گھنٹے لگنے تھے۔ علی نواز، ان کے بیٹوں، بھائیوں اور خاندان کے دیگر مردوں نے انتظار کرنے کے بجائے فوراً زخمیوں کو نکالنا شروع کردیا۔ شدید زخمی مسافروں کو گاڑیوں کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا جبکہ نسبتاً کم زخمی افراد کو ٹریکٹر ٹرالیوں پر منتقل کیا جاتا رہا۔ اس خاندان کی طرف سے ہسپتال لے جائی جانے والی پہلی زخمی خاتون راستے ہی میں دم توڑ گئی۔
حادثے میں چھ بوگیاں بری طرح تباہ ہوئی تھیں اور کئی مسافر ملبے میں پھنسے ہوئے تھے۔ علی نواز کے خاندان اور دوسرے مقامی افراد تباہ شدہ بوگیوں پر چڑھ کر اندر پھنسے لوگوں تک پہنچتے اور انہیں باہر نکالتے رہے۔ ٹرین کی سیٹوں اور بنچوں کو عارضی اسٹریچر بنا کر زخمیوں کو حادثے کی جگہ سے دور منتقل کیا گیا، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشوں کو زمین پر احترام سے رکھ کر کپڑوں اور چادروں سے ڈھانپا جاتا رہا۔
اس ریسکیو میں گھر کی خواتین بھی مسلسل شریک رہیں۔ شدید گرمی میں وہ گھر سے پانی بھر بھر کر ایک انسانی زنجیر کے ذریعے زخمیوں تک پہنچاتی رہیں۔ علی نواز کی اہلیہ حبیبہ مائی چولہے کے سامنے بیٹھ کر متاثرین اور بعد میں پہنچنے والے ریسکیو اہلکاروں کے لیے کھانا، روٹیاں اور چائے تیار کرتی رہیں۔ ایک زخمی خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ ان کے گھر پہنچی تو حبیبہ مائی نے اس کی چھوٹی بچی کے لیے اپنی گائے کا دودھ نکالا، خاتون کا گرد سے بھرا چہرہ دھویا اور اس کے پاؤں میں جوتے نہ دیکھ کر اپنے جوتے بھی اسے دے دیے۔
اس خوفناک حادثے میں کم از کم 63 افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے، مگر حادثے کے ابتدائی اور انتہائی اہم گھنٹوں میں علی نواز کا پورا خاندان متاثرین کے لیے پہلی امدادی قوت بن گیا۔ بعد میں ایک فوجی افسر نے خاندان کی اس خدمت پر انہیں 50 ہزار روپے بطور انعام بھی دیے۔ علی نواز کے خاندان نے کسی سرکاری حکم، تربیت یا ذمہ داری کے بغیر اپنا گھر، گاڑیاں، ٹریکٹر، پانی، کھانا اور اپنی پوری توانائی حادثے کے متاثرین کے لیے وقف کردی۔
