سرخ شاپنگ بیگ میں بند کچرے میں پھینکی گئی نومولود بچی کو اپنی بیٹی بنانیوالے اسلام آباد پولیس کے کانسٹیبل۔۔۔

20 ستمبر 2024 کو اسلام آباد کے علاقے چٹھہ بختاور میں مقامی لوگوں کی نظر کچرے کے ڈھیر میں پڑے ایک بیگ پر پڑی۔ اس کے اندر ایک نومولود بچی زندہ موجود تھی۔ معتبر رپورٹ کے مطابق بچی کو سرخ کاغذی بیگ کے اندر چھوڑا گیا تھا۔ لوگوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔

اطلاع ملتے ہی اسلام آباد پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور بچی کو وہاں سے نکالا۔ اسے فوری طور پر ایک سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ اتنی خطرناک حالت میں چھوڑے جانے کے باوجود اس کی صحت کیسی ہے۔ طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے صحت مند قرار دیا۔

اسی ریسکیو ٹیم میں اسلام آباد پولیس کے کانسٹیبل محمد آصف بھی شامل تھے۔ کہانی بچی کو کچرے سے نکال لینے پر ختم نہیں ہوئی۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان تقی جواد کے مطابق محمد آصف بے اولاد تھے۔ جس بچی کو چند لمحے پہلے ایک لاوارث نومولود کی حیثیت سے کچرے کے ڈھیر سے نکالا گیا تھا، محمد آصف اسی کی مستقل کفالت اور سرپرستی کے لیے خود آگے آگئے۔

انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بچی کو صرف بچا کر کسی ادارے کے حوالے نہیں کریں گے بلکہ اسے اپنی زندگی اور اپنے گھر کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ پولیس ترجمان کے مطابق محمد آصف نے بچی کی قانونی سرپرستی حاصل کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر میں درخواست دی اور ضروری قانونی دستاویزات مکمل کرنے کا عمل شروع کردیا گیا۔

یوں ایک ہی دن میں اس نومولود کی زندگی کا منظر بدل گیا۔ صبح وہ ایک ایسے بیگ میں پڑی تھی جسے کچرے میں پھینک دیا گیا تھا، اور کچھ ہی دیر بعد اسے بچانے آنے والی پولیس ٹیم میں ایک ایسا شخص موجود تھا جو اس کی زندگی بھر کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔

یہ واقعہ ستمبر 2024 میں رپورٹ ہوا تھا۔ دستیاب معتبر رپورٹ میں اس وقت قانونی guardianship کی درخواست اور دستاویزی عمل جاری ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔

Leave a Comment