
ڈاکو نے پکڑے جانے پر اپنی بچی کا واسطہ دیا تو 19 سالہ بسمہ نے جواب دیا: ’’کیا میں کسی کی بچی نہیں ہوں؟‘‘ نومبر 2022 میں گوجرانوالہ کی ایک طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں یہ جملہ ہر سننے والے کے دل کو لگا۔ یونیورسٹی آف گجرات کی طالبہ بسمہ شاہد نے لوٹ مار کرنے والوں کے سامنے مزاحمت کی اور ان ہی کا پستول اپنے قبضے میں لے لیا۔
بسمہ نے ڈیلی پاکستان کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ وہ صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے اپنی والدہ کے ساتھ یونیورسٹی کی سواری کا انتظار کر رہی تھیں۔ اسی دوران موٹر سائیکل پر دو افراد آئے اور اسلحے کے زور پر ان کا سامان چھیننے کی کوشش کی۔ ان کے بیان کے مطابق ملزمان نے والدہ کی سونے کی بالیاں بھی کھینچنے کی کوشش کی، جس سے ان کے کان زخمی ہو گئے۔ ایک طرف اپنی جان کا خوف تھا، دوسری طرف والدہ کو تکلیف پہنچ رہی تھی۔
بسمہ کے مطابق جب ملزمان ان کا بیگ لے کر فرار ہونے لگے تو انہوں نے انہیں دھکا دیا، جس سے وہ موٹر سائیکل سمیت گر گئے۔ اسی دوران پستول بھی نیچے گرا اور بسمہ نے اسے اٹھا لیا۔ چند لمحوں میں صورتِ حال بدل گئی؛ اب پستول اس طالبہ کے ہاتھ میں تھا جسے لوٹنے کی کوشش کی گئی تھی۔
انٹرویو میں بسمہ نے بتایا کہ ایک ملزم بھاگ نکلا جبکہ انہوں نے دوسرے کو قابو میں رکھا اور پولیس کو اطلاع دی۔ آس پاس کے لوگ بھی مدد کے لیے جمع ہو گئے۔ خبری رپورٹس کے مطابق بالآخر دونوں ملزمان کو کینٹ پولیس کے حوالے کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔
واقعے کی ویڈیو میں ایک ملزم اپنے بچوں کا حوالہ دے کر معافی مانگتا دکھائی دیتا ہے۔ بسمہ کا جواب اسی لیے اتنا اثر رکھتا تھا کہ جس بیٹی کو چند لمحے پہلے اسلحے سے ڈرایا گیا تھا، اس کی جان اور اس کے خاندان کی فکر بھی اتنی ہی اہم تھی۔
گفتگو میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہاتھا پائی کے دوران پستول کا میگزین الگ ہو گیا تھا۔ بسمہ نے بتایا کہ انہوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ اصلی پستول دیکھا تھا؛ ابتدا میں خوف محسوس ہوا، لیکن اللہ پر بھروسے سے انہیں حوصلہ ملا۔ واقعے کے بعد اہل خانہ نے انہیں آئندہ ایسا خطرہ مول لینے سے احتیاط کرنے کی تاکید کی۔
بسمہ کی کہانی میں ایک نوجوان بیٹی کا خوف بھی ہے، اپنی والدہ کے لیے فکر بھی اور مشکل لمحے میں دکھایا گیا غیر معمولی حوصلہ بھی۔ دعا ہے کہ ہماری ہر بیٹی محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرے اور ہر ماں اپنی اولاد کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے اس کی سلامتی کے بارے میں مطمئن ہو۔
بسمہ شاہد کے حوصلے کو سلام! 🇵🇰
ماخذ: ڈیلی پاکستان
