پرویز مشرف اور صہبا فرید کی شادی کی دلچسپ کہانی۔۔۔

: پرویز مشرف کی صہبا فرید سے کیسے شادی ہوئی؟یہ جنرل پرویز مشرف اور اُن کی اہلیہ صہبا مشرف ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کی شادی خاندان کی مرضی سے طے ہوئی تھی، مگر پہلی ہی ملاقات میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے مشرف نے اپنی کتاب In the Line of Fire میں مزاحیہ انداز میں بیان کیا ہے۔ مشرف کی ایک خالہ یا پھوپھی صہبا کے والدین کو جانتی تھیں اور اُنہوں نے یہ رشتہ تجویز کیا۔ جب نوجوان مشرف لڑکی دیکھنے پہنچے تو پینٹ شرٹ کے ساتھ پشاوری چپل پہنے ہوئے تھے۔ صہبا کو اُن کا لباس اور مونچھیں کچھ خاص پسند نہ آئیں، لیکن پھر بھی رشتے کے لیے رضامند ہوگئیں۔ صہبا کے والد غلام غوث فرید، جو وزارتِ اطلاعات و نشریات میں ملازم تھے، مشرف سے خاصے متاثر ہوئے۔ منگنی کے بعد مشرف کی تعیناتی چٹاگانگ ہوگئی، جہاں سے دونوں ایک دوسرے کو خطوط لکھتے رہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اِن خطوط میں دونوں ایک دوسرے کی انگریزی کی غلطیاں درست کیا کرتے تھے۔ بالآخر 27 دسمبر 1968 کو دونوں کی شادی ہوگئی۔ اُس وقت پرویز مشرف فوج میں کیپٹن تھے اور کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہی نوجوان ایک دن صدر پاکستان بنے گا۔: ی
پرویز مشرف کی اہلیہ صہبا مشرف اپنے شوہر کے طاقتور حکمران بننے کے باوجود زیادہ تر میڈیا سے دور رہیں۔ وہ 1949 میں کراچی میں پیدا ہوئیں، سینٹ جوزف کالج سے انگلش اور سائیکالوجی میں گریجویشن کی اور دس سال سے زیادہ تدریس سے وابستہ رہیں۔ 27 دسمبر 1968 کو اُن کی شادی پرویز مشرف سے ہوئی۔ اُن کے دو بچے، عائلہ اور بلال ہیں۔ خاتونِ اول کی حیثیت سے صہبا نے خواتین، تعلیم، گرل گائیڈز اور فلاحی کاموں میں دلچسپی لی۔ 2005 کے زلزلے کے بعد متاثرہ خواتین اور بچوں کی مدد میں بھی سرگرم رہیں۔

Leave a Comment