
کملی والے محمدؐ توں صدقے میں جاں ۔۔۔۔!!! استاد نصرت فتح علی خان کا انتقال اور قبر سے منسوب من گھڑت قصے ۔۔۔۔۔ حقیقت کیا ہے ؟ استاد نصرت فتح علی خان کا انتقال 16 اگست 1997 کو لندن کے کرامویل ہسپتال میں ہوا تھا ، انکا جسد خاکی واپس فیصل آباد پاکستان لایا گیا اور جھنگ روڈ پر واقع کبوتراں والا قبرستان میں انہیں اپنے والد کے پہلو میں سپردخاک کیا گیا ،یہ انکی وصیت تھی جسکے مطابق وہ اب بھی وہیں مدفون ہیں ، قبر کشائی اور قبر دوسری جگہ منتقل کرنے کی افواہ ایک قصے کی پہلی اینٹ اور بنیاد کے طور پر گھڑی گئی ۔ استاد نصرت فتح علی خان کی قبر کو 2 مہینے بعد تو کیا کبھی بھی نہیں کھولا گیا اور نہ اسکی ضرورت پیش آئی انتقال کے 24 سال بعد یعنی 2021 میں اس قبر پر راحت فتح علی نے اپنے خرچ پر مقبرہ تعمیر کروایا ۔ اگر قبر کشائی ہوئی ہوتی اور اللہ معاف کرے کوئی ایسا واقعہ دیکھنے کو ملتا تو اسکا کم از کم فیصل آباد والوں کو تو پتہ ہوتا ۔ لیکن بعد میں کچھ شخصیات نے لوگوں کو خوفناک کہانیوں سے ڈرانے کے لیے اس قصہ کو گھڑا جو بعد میں سینکڑوں تقریروں میں تڑکہ لگا کر بیان کیا گیا ظاہر ہے تڑکے والی شے زیادہ مزیدار ہوتی ہے اور خوب بکتی ہے ، استاد نصرت فتح علی خان کا معاملہ انکے اللہ کے سپرد ہے ۔ دلوں میں گھر کر جانیوالے کلام گا کر انہوں نے نجانے کتنے غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کردیا ، اگر اس کام میں ان سے کوئی غلطی ہوئی بھی تو اسے اللہ نے معاف کرنا ہے نہ کہ انسانوں نے ، فیصل آباد اور خاص کر اس قبرستان کے علاقے کے لوگ ایک چیز ضرور دیکھتے ہیں کہ استاد نصرت فتح علی خان کی قبر پر روزانہ فتح پڑھنےو الے ضرور آتے ہیں اور ہر جمعرات کو انکی قبر پر ختم شریف بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم استاد نصرت فتح علی خان کے صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف فرمائے اور انکے درجات کو بلند کرے آمین ثم آمین
