زندگی بدلنے والی سچی کہانی:لاہور کا وہ چنگڑ جسے قدرت امریکہ لے آئی۔۔۔

زندگی بدل دینے والی سچی کہانیاں : لاہور کا وہ چنگڑ جسے قدرت امریکہ لے آئی ۔۔۔۔ سڑکوں پر کوڑا چننے والے نوجوان کی زندگی کی کہانی ۔۔۔ محمد صابر کا تعلق لاہور کے ایک ایسے چنگڑ خاندان سے تھا جو جھگی میں رہتا اور اس خاندان کے تمام افراد بشمول عورتیں بچے سڑکوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے اپنی روزی روٹی تلاش کرتے تھے ۔ بچپن کے ان دنوں میں صابر کو کوڑے سے ملنے والی اخباریں اور کتابیں پڑھنے کا شوق لگ گیا اسے بچپن سے ہی کتابیں اچھی لگتی تھیں ، کچھ عرصے بعد صابر نے ماں سے ضد کرکے ایک سرکاری سکول میں داخلہ لے لیا ۔اسے سکول میں چنگڑاور مصلی کہہ کر پکارا جاتا ہر کوئی اسکا مذاق اڑاتا مگر صابر اپنی دھن میں لگا رہا اسکی روٹین تھی کہ صبح پانچ بجے اٹھ کر سڑکوں پر کوڑا چننے چلا جاتا۔ 8 بجے واپس آکر کوڑا گھر میں رکھتا اور بستہ اٹھا کر سکول چلا جاتا اور پھر ظہر کے بعد گھر واپس آکر کھانا کھاتا ، پھر کوڑا چننے چلا جاتا اور رات کو ہوم ورک کرتا تھا اسکی روٹین نے گھر کی مجموعی کمائی پر اثر نہ ڈالا اس لیے اس کی تعلیم پر کسی کو اعتراض نہ تھا ، پھر صابر نے آٹھویں کلاس کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرکے سب کو حیران کردیا اور اسے وظیفہ بھی ملا ، میٹرک کا امتحان بھی صابر نے اچھے نمبروں سے پاس کیا تو اسکا رہن سہن بدلا تب تک وہ کوڑا چننے کا کام کررہا تھا لیکن ایک روز صابر کی ماں جو کسی کوٹھی میں کام کرتی تھی ردی کتابوں کی ایک گٹھڑی گھر لے آئی کہ اگلے روز اسے ردی میں بیچے گی ، مگر صابر کو ان کتابوں میں چارلس ڈکنز کا مشہور زمانہ ناول دی گریٹ ایکسپکٹیشنز مل گیا اس نے اسے پڑھنا شروع کیا تو اسکی زندگی ہی بدل گئی اب صابر نے کوڑا چننا چھوڑ کر گھروں میں اخبار پھینکنا شروع کردیے اور بازار میں چل پھر کر چیزیں بیچنا شروع کردیں لیکن اس دوران وہ ہر قسم کی تعلیمی تقریبات اور سیمینارز میں بھی شرکت کرتا تھا جبکہ اس نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ، ایف اے بھی اچھے نمبروں سے پاس کی تو کسی سیمینار میں اسکی ملاقات ایک امریکی خاتون سے ہو گئی جو لاہور میں امریکی سفارتخانے میں کام کرتی تھی ۔ یہ خاتون صابر کی کہانی سن کر بہت متاثر ہوئی اور اس نے صابر کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا اس نے صابر کو ایک سکالرشپ پروگرام بارے بتایا جسکی درخواستیں جمع کروانے کا آخری دن تھا صابر نے اپنی درخواست جمع کروا دی ، اس خاتون نے خود صابر کا لیٹر آف ری کمنڈیشن بھی لکھ دیا ، یہ صابر کی زندگی کا ایک انقلابی دن تھا ۔ پورے پاکستان سے منتخب ہونے والے 15 طلباء و طالبات میں صابر کا نام بھی آگیا کچھ گھر والوں سے لے کر اور کچھ اس نیک دل امریکی خاتون کی مالی مدد سے صابر امریکہ پہنچ گیا یہ 2014 کی بات ہے تب اوباما کی الیکشن کمپین چل رہی تھی ، صابر نے اپنی سکالرشپ کی شرائط کے تحت خوب دل لگا کر کام کیا۔ وہ ایک سے دوسرے اور پھر تیسرے پروگرام کا حصہ بنتا گیا یہ حکومتی پروگرام لوگوں کا معیار زندگی بہتر کرنے والے ہوتے تھے ۔ سب سے مزیدار اور حیران کن بات یہ صابر آج بھی امریکہ میں جدوجہد کررہا ہے ہر اہم پروگرام میں اسے ویلکم کیا جاتا ہے وہ پیسے بھی کما رہا ہے لیکن دوسروں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے اگر اسے پروگرام کی شرائط کے تحت امریکہ کی سڑکوں سے کوڑا چننا پڑے یا کوئی اور ایسا کام کرنا پڑے تو وہ بالکل شرمندہ نہیں ہوتا بلکہ شوق سے سب کام کرتا ہے ۔۔ صابر کا کہنا ہے کہ ٹھیک ہے میں یہاں آکر ارب پتی نہیں بن سکا لیکن مجھے اطمینان اور خوشی ہے کہ میں نے کامیابی حاصل کی ہے اور میں لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ ہماری دعا ہے اللہ کریم صابر کو زندگی کے ہر موڑ پر کامیاب و کامران کرے آمین۔۔۔

Leave a Comment