
شدید گرمی تھی، مکہ مکرمہ میں حاجیوں کا بے پناہ ہجوم تھا، مگر پانی نایاب ہو چکا تھا۔ لوگ ایک ایک گھونٹ پانی کے لیے پریشان تھے، کئی میل دور سے پانی لایا جا رہا تھا، انہی دنوں عباسی ملکہ زبیدہ بنتِ جعفر حج کے لیے مکہ پہنچیں۔ انہوں نے دیکھا کہ اللّٰہ کے مہمان پانی کی کمی کے باعث کس قدر مشقت اٹھا رہے ہیں۔ یہ منظر ان کے دل پر اتنا اثر کر گیا کہ انہوں نے فوراً ماہرین اور انجینئروں کو طلب کر لیا۔
انہوں نے پوچھا: “کیا کوئی ایسا راستہ نہیں کہ مکہ، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ تک ہمیشہ کے لیے پانی پہنچایا جا سکے؟” ماہرین نے نقشے بچھائے، زمین کا جائزہ لیا اور عرض کیا: “یہ ممکن تو ہے، مگر اس کے لیے دور دراز وادیِ حنین اور بعد میں وادیِ نعمان سے نہر نکالنی پڑے گی۔ پہاڑ کاٹنے ہوں گے، زیرِ زمین سرنگیں بنانی ہوں گی، کنویں کھودنے ہوں گے، اور اس پر بے پناہ دولت خرچ ہوگی۔”
زبیدہ بنتِ جعفر نے ایک لمحے کے لیے بھی ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کیا اور حکم دیا کہ کام فوراً شروع کیا جائے۔ پھر تقریباً تین سالوں تک ہزاروں مزدور، معمار، انجینئر اور کاریگر دن رات اس منصوبے پر کام کرتے رہے۔ پہاڑ تراشے گئے، زیرِ زمین سرنگیں کھودی گئیں، درجنوں کنویں، آبی ذخائر اور نہریں تعمیر کی گئیں، یہاں تک کہ تقریباً 35 کلومیٹر طویل ایک عظیم آبی نظام وجود میں آیا، جس کے ذریعے وادیِ حنین اور بعد ازاں وادیِ نعمان سے پانی بغیر کسی مشینری کے قدرتی ڈھلوان کے ذریعے عرفات، مزدلفہ، منیٰ اور مکہ تک پہنچایا جانے لگا۔ اس طرح انجینئرنگ کا وہ شاہکار جس نے ہزار سال سے زائد عرصہ لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی، نہرِ زبیدہ کے نام سے بن کر تیار ہو گیا۔
جب نہر زبیدہ کی تعمیر مکمل ہوئی تو اس منصوبے پر ہونے والے اخراجات کا مکمل حساب زبیدہ بنتِ جعفر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس زمانے میں اس پر تقریباً بیس لاکھ دینار خرچ ہو چکے تھے، جو اپنے دور کی ایک خطیر رقم تھی۔ روایت کے مطابق انہوں نے حساب نامہ ہاتھ میں لیا اور دریا میں پھینک دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا:** “یہ حساب میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور چھوڑتی ہوں۔”** ان کے نزدیک اللہ کے مہمانوں کی خدمت پر خرچ ہونے والی دولت کا اصل صلہ دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں تھا۔ عوامی روایت میں یہ بھی مشہور ہے کہ “نیکی کر دریا میں ڈال” کا محاورہ اسی واقعے سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ان کی عظمت اس نہر تک محدود نہیں تھی بلکہ اپنے پانچویں حج کے دوران پانی کی یہی تکلیف دیکھ کر انہوں نے صرف مکہ ہی میں پانی کا انتظام نہیں کروایا بلکہ کوفہ سے مکہ تک تقریباً 900 میل طویل حج کے راستے پر کنویں، تالاب، بارش کے پانی کے ذخائر اور مسافروں کے لیے آرام گاہیں بھی تعمیر کروائیں۔ یہی تاریخی شاہراہ بعد میں دربِ زبیدہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ معروف سیاح ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفرنامے میں لکھا کہ مکہ سے بغداد تک اس راستے پر موجود بے شمار کنویں، حوض اور آبی ذخائر زبیدہ بنتِ جعفر کی سخاوت کا نتیجہ تھے، اور اگر ان کی یہ خدمات نہ ہوتی تو اس دشوار گزار راستے پر سفر انتہائی مشکل ہو جاتا۔
زبیدہ بنتِ جعفر عباسی خاندان کی نہایت بااثر شہزادی، خلیفہ ہارون الرشید کی اہلیہ اور عباسی خلیفہ محمد الامین کی والدہ تھیں۔ ان کا اصل نام امۃ العزیز بتایا جاتا ہے جبکہ “زبیدہ” ان کا لقب تھا، جو ان کے دادا خلیفہ منصور نے دیا۔ وہ اپنی دولت اور اثر و رسوخ کو عوامی خدمت کے لیے استعمال کرنے والی غیر معمولی خاتون تھیں۔ 813ء میں ان کے بیٹے محمد الامین کی وفات کے بعد بھی انہیں عباسی دربار میں غیر معمولی عزت حاصل رہی۔ ان کے سوتیلے بیٹے، خلیفہ مامون، نے بھی ان کا وہی احترام برقرار رکھا جو ایک ماں کا کیا جاتا ہے۔
10 جولائی 831ء کو بغداد میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا نام آج بھی خدمتِ خلق، سخاوت اور دوراندیشی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
تاریخ میں بہت سے حکمران اپنی فتوحات کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں، مگر زبیدہ بنتِ جعفر ان عظیم شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی دولت کو انسانیت کی خدمت پر خرچ کیا۔ ایک ایسی نہر تعمیر کروائی جس سے صدیوں تک لاکھوں حاجیوں نے پانی پیا، دعائیں دیں اور آج بھی ان کے لیے اجر کا سلسلہ جاری ہے۔
