ٹرین حادثہ روک کر سینکڑوں مسافروں کی جان بچانے والے پھاٹک آپریٹر مدد علی کی روداد۔۔۔

شالیمار ایکسپریس نواب شاہ کی طرف آ رہی تھی۔ ریلوے پھاٹک بند کرنے کا وقت ہو چکا تھا، اس لیے پھاٹک آپریٹر مدد علی نے معمول کے مطابق گیٹ بند کرنا شروع کیا۔ اسی دوران ایک ٹرک ڈرائیور پھاٹک پر پہنچا۔ مدد علی نے اسے واضح طور پر روکا اور کہا کہ ٹرین آنے والی ہے، اس لیے ٹرک اندر نہ لے کر جائے، لیکن ڈرائیور نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے ٹرک ریلوے کراسنگ پر چڑھا دیا۔

ٹرک جب عین ریلوے لائن کے درمیان پہنچا تو اچانک پھنس گیا۔ نہ وہ آگے جا سکتا تھا اور نہ ہی پیچھے ہٹ سکتا تھا۔ دوسری طرف شالیمار ایکسپریس تیزی سے اسی طرف بڑھ رہی تھی۔ چند لمحوں میں ایک خوفناک حادثہ پیش آ سکتا تھا جس میں ٹرین میں سوار بے شمار مسافروں کی جانیں خطرے میں پڑ جاتیں۔

مدد علی نے پہلے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح ٹرک کو لائن سے ہٹا دیا جائے، لیکن جب کامیابی نہ ہوئی تو اس نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ اس نے فوراً لال جھنڈیاں اٹھائیں اور پوری رفتار سے ریلوے ٹریک پر ٹرین کی طرف دوڑ پڑا۔ وہ جتنی دور تک بھاگ سکتا تھا، بھاگتا گیا اور مسلسل خطرے کا اشارہ دیتا رہا۔

آخرکار ٹرین ڈرائیور کی نظر مدد علی پر پڑ گئی۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ آگے کوئی بڑا خطرہ موجود ہے، چنانچہ اس نے فوری طور پر بریک لگانا شروع کر دی۔ ٹرین کی رفتار آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی، لیکن فاصلہ انتہائ کم رہ جانے کی وجہ سے ٹرین پھاٹک پر پہنچ کر ٹرک سے ہلکی رفتار میں ٹکرا گئی۔

خوش قسمتی سے اس بروقت اقدام کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اگر مدد علی خطرے کو بھانپ کر لال جھنڈیاں لے کر ٹرین کی طرف نہ دوڑتا تو یہ حادثہ کہیں زیادہ خوفناک ثابت ہو سکتا تھا اور متعدد قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔

Leave a Comment