
بھارت کی ریاست کیرالہ کے ضلع ملاپورم میں ریاضی کے استاد عبدالمالک کے لیے اسکول جانا محض گھر سے نکل کر بس پکڑنے کا نام نہیں تھا، انہیں روزانہ دریائے کدلنڈی عبور کرنا پڑتا تھا۔
عبدالمالک نے 1992 میں پڈنجاٹوموری کے مسلم لوئر پرائمری اسکول میں تدریس شروع کی۔ پہلے سال وہ سڑک کے راستے اسکول جاتے رہے، مگر صرف 12 کلومیٹر کے سفر کے لیے تین بسیں بدلنا پڑتیں اور روزانہ آمدورفت میں تقریباً تین گھنٹے ضائع ہوجاتے۔ ایک ساتھی استاد نے انہیں بتایا کہ اگر وہ دریا عبور کرلیں تو گھر اور اسکول کے درمیان فاصلہ تقریباً ایک کلومیٹر رہ جائے گا۔ عبدالمالک نے یہ مشورہ آزمایا اور پھر یہی ان کا مستقل راستہ بن گیا۔
ہر تدریسی دن وہ دریا کے کنارے پہنچ کر اپنے خشک کپڑے، کھانے کا ڈبہ، جوتے اور ضروری سامان پلاسٹک کے تھیلے میں محفوظ کرتے۔ کمر کے گرد ٹائر کی ٹیوب باندھتے، ایک ہاتھ سے تیرتے اور دوسرے ہاتھ سے تھیلا پانی سے بلند رکھتے۔ دریا عبور کرنے میں تقریباً 10 سے 20 منٹ لگتے۔ دوسرے کنارے پر پہنچ کر ایک چٹان کی اوٹ میں خشک کپڑے پہنتے اور پھر پیدل اسکول چلے جاتے۔ چھٹی کے بعد یہی پورا سفر دوبارہ الٹی سمت میں طے کرتے۔
مون سون میں دریا کا بہاؤ تیز ہوجاتا، پانی چڑھ جاتا اور بعض اوقات سانپ بھی دکھائی دیتے، لیکن عبدالمالک کا معمول جاری رہتا۔ وہ اتنے وقت کے پابند تھے کہ مقامی لوگ انہیں کنارے پر دیکھ کر اپنی گھڑی کا وقت درست کرلیا کرتے تھے۔ طلبہ نے محبت سے انہیں ’’ٹیوب ماسٹر‘‘ کہنا شروع کردیا۔
عبدالمالک صرف ریاضی پڑھانے والے استاد نہیں تھے۔ وہ بچوں کو تیراکی بھی سکھاتے اور انہیں دریا کو آلودگی سے بچانے کی تلقین کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بسوں میں گھنٹوں گزارنے کے مقابلے میں دریا عبور کرنا نہ صرف وقت بچاتا ہے بلکہ اس نے انہیں جسمانی طور پر بھی صحت مند رکھا۔
2013 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق عبدالمالک تقریباً 20 برس سے یہ غیرمعمولی سفر کررہے تھے۔ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ ایک اچھا استاد شاگردوں کے لیے ہر رکاوٹ عبور کرسکتا ہے—عبدالمالک نے یہ بات محاورے میں نہیں بلکہ حقیقت میں دریا عبور کرکے ثابت کردی۔
