
خوشاب سرگودہا اور میانوالی وگردونواح کی معروف طلسماتی شخصیت ملک چراغ بالی کی زندگی کی کہانی : ملک چراغ بالی 1928ء میں خوشاب سے پندرہ کلو میٹر دور قصبہ ہڈالی میں محمد حیات بالی کے گھر پیدا ہوا ۔ ملک حیات کے چار بیٹے اور 5 بیٹیاں تھیں،ان میں ملک چراغ بالی کڑیل اور اکھڑ ہونے کے ساتھ ساتھ ضدی سوچ کا مالک اور ہٹ دھرم مگر انتہائی ذہین اور اچھی دنیاوی سوچ رکھنے والا جوان تھا۔لڑکپن سے ہی وہ اپنے ہم عصروں میں اپنی دھاک رکھتا تھا۔ چراغ بالی نے مڈل تک تعلیم اپنے قصبہ ہڈالی کے سرکاری سکول سے حاصل کی ،حیرت انگیز طور پر چراغ بالی حافظ قرآن بھی تھا ۔محمد حیات اور اسکا بیٹا میاں محمد انگریز وائسرائے ہند کے باڈی گارڈ دستے میں شامل اور کلکتہ میں ڈیوٹی دیتے تھے ، گاؤں آنے پر محمد حیات کو چراغ بالی کی شکایات موصول ہوئیں تو محمد حیات اسے اپنے ساتھ کلکتہ لے گیا اور وائسرائے ہند سے قربت کے باعث استدعا کر کے اسے وائسرائے ہند کے باڈی گارڈ دستے میں بھرتی کروا دیا۔ یہ تقسیم پاکستان سے قبل فرنگی دور تھا ۔محمد حیات بالی (والد چراغ بالی) کی اپنے ہی رشتہ داروں مدد خان بالی سے رنجش چلی آ رہی تھی، 1946ء میں دشمنی میں شدت آئی جس کی وجہ یہ بنی کہ مخالفین نے محمد حیات کے بڑے بیٹے کی بیوی جو کہ چراغ بالی کی بھاوج تھی کو زبردستی اغ۔واء کر لیا اور اسے لے کر قبائلی علاقہ میں روپوش ہو گئے، بھابھی کے اغ۔واء کا علم چراغ بالی کو ہوا تو چراغ بالی جو کہ پہلے ہی ضدی اور انتقامی ذہن رکھتا تھا، انگریز کی حکومت سے بغاوت کر کے کلکتہ سے گھوڑی پر اپنے آبائی گائوں ہڈالی پہنچا اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ محلہ بالیانوالہ میں ڈنڈوں، کلہاڑیوں اور برچھیوں سے وار کر کے مخالف گروپ کے سربراہ مدد خان بالی، صادق بالی اور محمد بالی وغیرہ تین افراد کو ق۔ت۔ل کر دیا، جبکہ احمد خان اس واقعہ میں شدید زخمی ہوا، تاہم اس تنازعہ کو ہوا دینے والا ملک سرفراز نامی شخص ہوشیاری کے باعث بچ نکلا۔ تین مخالفین کے ق۔ت۔ل کے بعد چراغ بالی کا حوصلہ بلند ہو گیا اور اس نے باقاعدہ اپنا گروپ تشکیل دے لیاتا کہ اپنے مخالفین یعنی مدد خان بالی کے رشتہ داروں اور تعلق داروں کو چن چن کر ان سے انتقام لے سکے۔اس طرح چراغ بالی نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا اور ایسی دلدل میں پھنسا کہ دھنستا ہی چلا گیا۔ زندگی میں مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے چراغ بالی نے ڈ۔کیتی اور راہزنی کی وارداتیں شروع کر دیں، اس دوران چراغ بالی نے اپنے خاندان میں شادی کی مگر اشتہاری ہونے کے باعث وہ بیوی کو ساتھ نہ رکھ سکا اور اس کی بیوی نے ساری زندگی اپنے میکے میں گزاری۔ آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی وارداتوں سے چراغ بالی ضلع سرگودھا جس کا شمار اس وقت پنجاب کے بڑے اضلاع میں ہوتا تھا کے علاوہ صوبہ بھر میں د۔ہشت اور خوف کی علامت بن گیا۔ اس کا چرچابرصغیر میں ہونے لگا، ق۔ت۔ل و غارت گری اور سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کے باعث پنجاب پولیس نے 1956ء میں چراغ بالی کو اس کی ہسٹری شیٹ کی بنا پر انتہائی خطرناک ملزم قرار دے دیا۔ 1956ء کے اوائل سے 1962 کے آخر تک چراغ بالی کا وہ دور تھا جس میں چراغ بالی نے انتقاماً اپنے مخالف مدد بالی گروپ کے ق۔ت۔ل ہو جانے والے ایک نوجوان کی بیوہ کو اغ۔واء کر کے اس سے دوسری شادی کر لی۔ چراغ بالی ہمیشہ اس خاتون کو اپنے ساتھ رکھتا تھا، مخالف قبیلے کی ہونے کے باوجود خاتون نے بھی چراغ بالی سے خوب وفا کی۔ اشتہاری زندگی کے دوران ہی متذکرہ خاتون کے بطن سے چراغ بالی کا ایک بیٹا ظفر بالی پیدا ہوا۔ایک طویل عرصہ تک پولیس اور چراغ بالی کے درمیان درجنوں پولیس مقابلے ہوئے، پولیس نے چراغ بالی کی گرفتاری کیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اور منصوبے بنائے، اور ان پر عمل کیا مگر نہ تو پولیس چراغ بالی کو گرفتار کر سکی اور نہ ہی چراغ بالی کی وارداتوں میں کمی آئی۔ بلکہ اس کا خوف پنجاب بھر میں بڑھتا گیا، صورتحال یہاں تک آ گئی کہ کئی ڈ۔کیت گینگ چراغ بالی کا نام استعمال کرنے لگے، اس صورتحال نے پنجاب پولیس بالخصوص ضلع سرگودھا کی پولیس کو چکرا کے رکھ دیا جس پر آئی جی پنجاب پولیس نے چراغ بالی کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر اس وقت 2 مربعہ زرعی اراضی اور 2 ہزار روپے نقد انعام مقرر کر دیا تو چراغ بالی کا نام مزید د۔ہشت کی علامت بن گیا کیونکہ یہ اس وقت پنجاب میں پولیس کی جانب سے کسی بھی اشتہاری کے سر کی سب سے بڑی قیمت تھی، مگر پولیس پھر بھی چراغ بالی کو پکڑنے میں ناکام رہی؟۔اس زمانے میں خوشاب کے پہاڑی علاقے وادی سون میں ملک محمد خان ڈھرنالیا ڈ۔کیت گینگ کا راج تھا۔ آناً فاناً چراغ بالی کی اسی علاقہ میں انٹری ہوئی اور وہاں راج کرنے لگا۔ علاقے کے بزرگ کہتے ہیں کہ چراغ بالی کا ایک کردار ڈ۔کیت کا تھا تو دوسرا وہ غریب پروراور مظلوم طبقے کا مدد گار تھا جو لوٹی ہوئی دولت علاقہ بھر کے غریب اور مظلوم لوگوں کی مدد کیلئے صرف کرتا تھا، اس نے کبھی کسی غریب کے گھر ڈ۔کیتی نہیں کی تھی ۔ وہ اپنے دشمنوں سے چن چن کر انتقام لیتا رہا جبکہ اپنے دوستوں کے سر پر سایہ بن کر رہا۔خوف کی علامت چراغ بالی کے علاقہ کے علاوہ پنجاب بالخصوص بلوچستان کی کئی اہم شخصیات سے دوستی اور مراسم تھے، نواب آف کالا باغ جو کہ نوابزادہ ٹوانہ کے خلاف تھے، وہ محمد خان آف ڈھرنالیہ کی پشت پر تھے اور نوابزادہ ٹوانہ چراغ بالی کی پشت پناہی کرتا تھا، نواب آف کالا باغ نے محمد خان ڈھرنالیہ کے ذریعے نوابزادہ ٹوانہ سے انتقام لینا چاہتا تھا جبکہ نوابزادہ ٹوانہ چراغ بالی کے ذریعے نواب آف کالا باغ سے انتقام لینے پر تلا ہوا تھا کہ چراغ بالی اور محمد خان ڈھرنالیہ کو علاقہ کے وڈیروں کے عزائم کا علم ہو گیا اور دونوں (محمد خان ڈھرنالیہ اور چراغ بالی) نے ایک دوسرے کے خلاف پنجہ آزمائی اور وڈیروں کے ہاتھوں کھلونا نہ بننے کا فیصلہ کر لیا اور آپس میں بغلگیر ہو گئے۔چراغ بالی کی بڑھتی ہوئی ق۔ت۔ل و غارت گری اور اندھیر نگری پر ایک بار پھر حکومتی سطح پر چراغ بالی کی گرفتاری کیلئے ایک بڑا منصوبہ بنایا گیا، 1962ء میں چراغ بالی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہر سال کی طرح شاہپور جو کہ اب سرگودھا کی تحصیل ہے میں شاہ شمس شیرازیؒ کا سالانہ عرس دیکھنے کے لئے آیا ہوا تھا کہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا، اشتہاری ہونے کے بعد چراغ بالی کی یہ پہلی گرفتاری تھی، چراغ بالی کو لا تعداد مقدمات میں جیل بھجوایا گیا، اسے کئی مقدمات میں عمر قید، جائیداد ضبطی کی سزا ہوئی، جبکہ اکثریت مقدمات کے مدعیوں نے عدالتوں میں شہا۔دتیں نہ دیں اور اکثر مدعیوں نے پیروی سے ہی انکار کر دیا، کیونکہ چراغ بالی کے گیینگ کے درجنوں خطرناک ملزم پولیس کی گرفت سے باہر تھے، جن کے خوف کی وجہ سے ایسا ہوا۔ چراغ بالی کا خوف اتنا تھا کہ اس وقت کی حکومت کے بڑے بڑے نام بھی چراغ بالی کا نام سن کر لرز جاتے تھے۔ ملک چراغ بالی نے اپنی زندگی میں تین جیلوں، ساہیوال، مچھ اورمیانوالی میں اسیری کاٹی اس دوران ان جیلوں میں چراغ بالی کا راج رہا، جیلوں کے افسربھی اسے سیلوٹ کرتے تھے۔ چراغ بالی جیل کے افسروں کے ذریعے اپنے علاقہ اور ملک کے مختلف شہروں میں پیغام بھجواتا اور جیل میں رہ کر لوگوں کے کام کرواتا رہا۔ میانوالی جیل میں چراغ بالی کی اس وقت کے بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب محمد اکبر بگٹی سے دوستی ہو گئی، چراغ بالی اور نواب اکبر بگٹی کی دوستی نے بعد ازاں اتنی قربت پائی کہ چراغ بالی نے اپنی بیوی اور بیٹے ظفر بالی کو نواب محمد اکبر بگٹی کے پاس بلوچستان بھجوا دیا جہاں چراغ بالی کی اہلیہ اور ظفر بالی ایک طویل عرصہ تک رہے۔ نواب محمد اکبر بگٹی نے نا صرف ظفر بالی کو اپنے گھر کے فرد کی طرح پالا بلکہ اسے اپنے بیٹوں کی طرح اعلیٰ تعلیم دلوائی۔چراغ بالی میانوالی جیل میں بند تھا کہ اگست 1971ء میں مخالفین نے اس کے بھائی کو ق۔ت۔ل کر دیا، جب بھائی گلزار کے ق۔ت۔ل کی اطلاع چراغ بالی کو جیل میں موصول ہوئی تو چراغ بالی نے جیل توڑ کر فرار ہونے کا منصوبہ بنایا جس میں وہ کامیاب بھی ہو گیا۔ جس پر حکومت پنجاب بالخصوص صوبہ بھر کے تھانوں کی پولیس پر لرزہ طاری ہو گیا، بھائی کے ق۔ت۔ل کے بعد چراغ بالی کی آنکھوں میں خون اتر آیا، پھر اس نے اپنے دشمنوں کو چن چن کر ٹارگٹ کر کے ق۔ت۔ل کیا، جیل سے فرار ہونے کے بعد چراغ بالی نے مخالفین کو ق۔ت۔ل اور ڈ۔کیتیوں کا جو سلسلہ شروع کیا اس سے پنجاب بھر میں چراغ بالی کے نام کی مزید د۔ہشت پھیل گئی ۔اس وقت کے گورنر غلام مصطفی کھر سرگودھا آئے تو چراغ بالی کے ایک ساتھی فتح محمد جو کہ ق۔ت۔ل و غارت گری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث تھا ایک مق۔تولہ کے ورثاء نے غلام مصطفی کھر کو فتح محمد اور چراغ بالی کی شکایت کی جس پر غلام مصطفی کھر نے اس وقت کے ڈی ایس پی خوشاب باقر شاہ جو بعد ازاں ڈی آئی جی کے عہدہ تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے کو فتح محمد اور چراغ بالی کی زندہ یا مردہ گرفتاری کا ٹاسک دیا ۔۔1973 میں چراغ بالی اپنی بہن کے ہمراہ پشاور سے افغانستان جا رہا تھا کہ صوبہ سرحد(موجودہ کے پی کے) پولیس نے اسے پکڑ لیا۔ دوسرے روز چراغ بالی کٹھہ سگھرال کی پہاڑیوں میں پولیس مقابلے میں پار کر دیا گیا۔ یوں خوف اور د۔ہشت کی علامت چراغ بالی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
