بازار حسن کی تاریخ کا انوکھا کردار، پیر کاکی تاڑ کون تھا؟ کہاں سے آیا تھا؟ پہلی بار مکمل کہانی اور حقائق جانیے۔۔۔

لاہور: بازار حسن کی تاریخ کا انوکھا کردار ، پیر کاکی تاڑ کون تھا ؟ کہاں سے آیا تھا ؟ پہلی بار مکمل کہانی اور حقائق ۔۔۔۔۔ جو شخص بہترین اور پرآسائش زندگی کو ٹھوکر مار کر معاشرے کی ٹھکرائی ہوئی روحوں کو گلے لگا لے، دنیا اسے یا تو پاگل سمجھتی ہے یا پھر اس پر سنگ باری کرتی ہے۔ سید مخدوم صفدر علی بخاری، المعروف “پیر کاکی تاڑ” بھی ایک ایسے ہی شخص تھے ، راولپنڈی کے گورڈن کالج کے پڑھے لکھے گریجویٹ اور للہ، تحصیل پنڈدادنخان کے گاؤں ڈھڈی تھل کے بااثر زمیندار اور کوئلے کی کانوں کے مالک تھے۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہ حالتِ جذب و مستی میں لاہور کے داتا دربار پہنچے اور پھر اپنے قدم اس بدنامِ زمانہ کوچے میں رکھ دیے جہاں جانے سے بھی لوگ ڈرتے تھے۔وہاں انہوں نے ایک انوکھا آستانہ سجا لیا۔ وہ ان مجبور اور بے بس تماشہ بنی عورتوں کو دھمال ڈلواتے اور آنے والے تماش بینوں سے طنزیہ اور دوٹوک انداز میں پوچھتے کہ کبھی کاکی تاڑی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہوتا تو کہتے کہ جاؤ پہلے کاکی تاڑ کر آؤ۔ اس عجیب تماشے پر ہنسی کا طوفان اٹھا، جگ ہنسائی ہوئی، اور اپنے گھر والے تک انہیں چھوڑ گئے مگر اس قلندر کو دنیا کی پرواہ کب تھی! میڈیا میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا، این این آئی کے خوشنود علی خان اور خبریں کے ضیاء شاہد جیسے بڑے ناموں نے سنسنی خیز سکینڈل چھاپ دیے، اور انہیں “کنجریوں کا پیر” اور “پیر آف کنجر شریف” جیسے تضحیک آمیز القابات سے نوازا گیا۔ کفر و بدعت کے فتوے دار کیے گئے، لیکن اس درویش نے دنیا کی دی گئی عزت اور ذلت دونوں کو ایک سا جانتے ہوئے ہر الزام بصد شکر و احترام قبول کر لیا۔ جب کوئی ان سے پوچھتا کہ بابا ادھر کنجر خانے میں کیا کرتے ہو، تو ان کا سادہ مگر گہرا جواب ہوتا کہ “بابا کنجر لوگوں کی کڑی نکال لیتا ہے”۔لوگ ہنستے رہے، طعنے دیتے رہے، لیکن اسی ہنسی ہنسی میں ہیرا منڈی کے اس تاریک ماحول سے تین سو سے زائد بے بس کاکیاں چپ چاپ عزت کے دائرے میں آ گئیں اور باعزت گھرانوں میں بیاہ دی گئیں۔ وقت بدلا، لاد کا مرحلہ آیا تو بابا نے وہ آستانہ چھوڑ دیا اور ایک بار پھر بہت باعزت لباس اور حلیے میں بسم اللہ اسٹیٹ، بھاٹی گیٹ پر آ بیٹھے۔ اب اندازِ نو تھا؛ لوگوں سے کہا جاتا کہ سات دن تک آنکھیں بند کر کے مصری قاری عبدالباسط عبدالصمد رحمہ اللہ کی بلا ترجمہ تلاوتِ صبح، دوپہر اور شام مست مست ہیلنگ کے نام پر سنا کریں۔ کسی نے حیرت سے پوچھا کہ بابا پہلے دھمال اور اب قرات، یہ کیا چکر ہے؟ تو بابا نے مسکرا کر ایسا جملہ کہا جو تاریخ کا حصہ بن گیا کہ بھائی، پہلے غریب مجبوروں کی ہیرا منڈی پر ڈیوٹی تھی تو طریقہ بھی غریبانہ تھا، اب اس معاشرے کی فائیو اسٹار ہیرا منڈی پر ڈیوٹی ہے تو طریقہ بھی فائیو اسٹار ہے۔ وہ مجبور ہو کر مجبوراً ناچتی تھیں، یہاں تو یہ طاقتور اور بااثر لوگ خود خوشی خوشی ننگے ہوتے بھی ہیں اور ایک دوسرے کو ننگا کرتے بھی ہیں۔ ناچتے یہ بھی ہیں، وہ ڈھول کی تھاپ پر ناچتی تھیں اور یہ سب اقتدار اور دولت کی چمک پر مٹکتے ہیں۔..

Leave a Comment