صرف8 ماہ کی عمر میں اپنے خاندان سے بچھڑنے والی سدرہ کی کہانی۔۔۔

صرف 8 ماہ کی عمر میں لاہور سے کراچی جانے والی ٹرین میں اپنے خاندان سے بچھڑنے والی سدرہ کو تقریباً 33 سال بعد دوبارہ اس کی ماں، باپ، بہنوں اور بھائی تک پہنچانے کی کہانی کسی فلم سے کم نہیں۔ سدرہ کے بچھڑنے کی اصل کہانی بھی عام گمشدگی سے بالکل مختلف تھی۔ ولی اللہ معروف کے مطابق سدرہ صرف 8 ماہ کی تھی جب گھر کے ایک تنازع کے دوران اس کے والد اسے اپنے سسرال سے ساتھ لے کر نکلے۔ لاہور ریلوے اسٹیشن سے وہ سدرہ کو لے کر کراچی جانے والی ٹرین “تیز رو” میں سوار ہوئے۔

اسی ڈبے میں ایک خاتون اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ ان کے بیان کے مطابق بچی کے والد کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی اور وہ اتنی چھوٹی بچی کو مناسب طریقے سے سنبھال بھی نہیں پا رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ بچی کا نام کیا ہے تو جواب ملا: “سدرہ”۔ بچی بار بار رو رہی تھی۔ اس شخص کے پاس ایک نیا فیڈر بھی موجود تھا۔ جب مسافروں نے ماں کے بارے میں سوال کیا تو کبھی کہا گیا کہ بچی کی ماں فوت ہوچکی ہے اور کبھی کہا گیا کہ وہ چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ معاملہ مشکوک لگا تو ٹرین کی پولیس نے بھی پوچھ گچھ کی۔ اسی دوران سدرہ کے والد بچی کو مسافروں کے پاس چھوڑ کر وہاں سے غائب ہوگئے اور واپس نہ آئے۔

وہی لمحہ سدرہ کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ ٹرین میں موجود خاندان نے اس ننھی بچی کو بے سہارا چھوڑنے کے بجائے اپنے پاس رکھا۔ سدرہ کراچی پہنچ گئی اور پھر اسی خاندان نے اسے اپنی بچی کی طرح پالا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سدرہ جن کپڑوں میں ملی تھی، اس خاندان نے وہ کپڑے بھی کئی دہائیوں تک سنبھال کر رکھے۔ دوسری جانب لاہور میں سدرہ کی والدہ کو اصل واقعے کا علم ہی نہیں تھا۔ بعد میں میاں بیوی کے درمیان صلح ہوئی اور جب سدرہ کی والدہ واپس گھر آئیں تو سب سے پہلا سوال اپنی 8 ماہ کی بیٹی کے متعلق کیا۔ والد نے بتایا کہ سدرہ سفر کے دوران ٹرین میں اس سے “گم ہوگئی” ہے۔ خاندان کے مطابق کئی دہائیوں تک انہیں اس سے زیادہ تفصیل معلوم نہیں ہوسکی۔

وقت گزرتا گیا۔ سدرہ کراچی میں جوان ہوئی، اس کی شادی ہوگئی اور وہ دو بچوں کی ماں بھی بن گئی، لیکن ایک سوال اس کے ساتھ ہمیشہ رہا کہ اس کے حقیقی ماں باپ کون ہیں اور وہ کہاں ہیں؟ پھر اگست 2025 میں یہ پرانا راز کھلنے لگا۔ 13 اگست 2025 کو سماجی کارکن ولی اللہ معروف نے سدرہ کا کیس اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک 8 ماہ کی بچی برسوں پہلے لاہور سے کراچی آنے والی ٹرین میں ملی تھی، اس کا نام سدرہ بتایا گیا تھا اور اب وہ اپنے حقیقی خاندان کو تلاش کرنا چاہتی ہے۔

پوسٹ تیزی سے پھیلی، خصوصاً لاہور اور پنجاب میں۔ تقریباً ایک ہفتے بعد لاہور سے ایک خاندان نے ولی اللہ معروف سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ میں بیان کی گئی تفصیلات ان کی برسوں پہلے بچھڑنے والی بچی سے حیرت انگیز حد تک ملتی ہیں۔ نام بھی سدرہ، عمر بھی تقریباً 8 ماہ، شہر بھی لاہور۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ جس شخص کے ساتھ بچی ٹرین میں دیکھی گئی تھی، خاندان کے مطابق وہ کوئی اغوا کار نہیں بلکہ سدرہ کا اپنا والد تھا۔

یہیں پہلی مرتبہ خاندان کے سامنے بھی اس رات کے واقعات کی ایک نئی تصویر آئی۔ لیکن صرف نام، عمر اور کہانی کا مل جانا کافی نہیں تھا۔ 30 سے زائد سال بعد محض شکل یا اندازے کی بنیاد پر کسی کو بیٹی قرار نہیں دیا جاسکتا تھا۔ ولی اللہ معروف نے DNA ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا۔ سدرہ اور اس کی ممکنہ والدہ کے نمونے لیے گئے۔ ولی اللہ معروف کے مطابق اخراجات دوستوں کے تعاون سے پورے کیے گئے۔ پھر یکم ستمبر 2025 کو رپورٹ آگئی۔ DNA میچ ہوگیا۔

یعنی کراچی میں پلنے والی سدرہ واقعی لاہور کے اسی خاندان کی بیٹی تھی جس سے وہ شیرخوار عمر میں جدا ہوئی تھی۔ پہلے سدرہ اور اس کی والدہ کی فون پر بات کروائی گئی، پھر اصل ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ ولی اللہ معروف سدرہ کو کراچی سے لے کر شاہدرہ، لاہور پہنچے۔ گھر والوں کے لیے اسے ایک سرپرائز رکھا گیا۔ تقریباً 33 سال پہلے 8 ماہ کی عمر میں جس گھرانے سے ایک بچی جدا ہوئی تھی، اسی سدرہ نے جوان عورت اور دو بچوں کی ماں بن کر دوبارہ اس گھر میں قدم رکھا۔

سامنے اس کی حقیقی ماں تھی، والد تھے، بہنیں، بھائی اور دوسرے رشتہ دار تھے—وہ لوگ جن کے ساتھ اس کا خون کا رشتہ تو ہمیشہ موجود رہا، لیکن زندگی کے تین سے زیادہ عشرے ایک دوسرے سے بالکل الگ گزر گئے۔ ایک وائرل پوسٹ سے شروع ہونے والی تلاش، پرانی نشانیاں، ایک خاندان کی یادداشت، کئی دہائیاں سنبھال کر رکھے گئے کپڑے اور آخر میں DNA ٹیسٹ—ان سب کڑیوں نے تقریباً 33 سال بعد سدرہ کو کراچی سے اس کے حقیقی خاندان کے دروازے تک پہنچا دیا۔

اور اس پوری تلاش کو انجام تک پہنچانے میں سماجی کارکن ولی اللہ معروف اور ان کے ساتھیوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔

Leave a Comment