اداکار محمدعلی کی آخری آرامگاہ و فنی حیاتی کی مکمل روداد۔۔۔

: شہنشاہِ جذبات، اداکار محمد علی کی آخری آرام گاہ اور زندگی کی روداد ۔۔
پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ میں جب بھی عظیم فنکاروں کا ذکر ہوگا تو شہنشاہِ جذبات محمد علی کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جائے گا۔

یہ تصویر پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور اور لیجنڈری اداکار محمد علی کی آخری آرام گاہ کی ہے، جو لاہور میں واقع ہے۔

محمد علی 19 اپریل 1931ء کو رام پور میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوگیا۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور بعد ازاں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔

محمد علی کا شمار ان خوش نصیب فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی جاندار اداکاری، مکالموں کی ادائیگی اور چہرے کے تاثرات سے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ خصوصاً جذباتی کرداروں میں ان کی اداکاری اس قدر متاثر کن ہوتی تھی کہ دیکھنے والے خود کو فلم کی کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں شہنشاہِ جذبات کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔

ان کی یادگار فلموں میں چراغ جلتا رہا، کنیز، آگ کا دریا، انسان اور آدمی، صاعقہ، وحشی، دوریاں اور آئینہ اور صورت سمیت کئی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔

محمد علی اور ان کی اہلیہ، نامور اداکارہ زیبا بیگم کی جوڑی بھی پاکستانی فلمی تاریخ کی مقبول ترین جوڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ دونوں نے متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا اور شائقین سے بے پناہ محبت حاصل کی۔

محمد علی کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس اور تمغۂ امتیاز جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

19 مارچ 2006ء کو یہ عظیم فنکار لاہور میں انتقال کر گئے اور اپنے پیچھے فلمی دنیا کی بے شمار یادیں چھوڑ گئے۔

آج ان کی آخری آرام گاہ اور ماضی کی تصویر کو ایک ساتھ دیکھ کر ایک حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ شہرت، دولت اور دنیا کی رونقیں سب عارضی ہیں۔ انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے، لیکن اس کا اچھا کام اور لوگوں کے دلوں میں بسنے والی یادیں باقی رہتی ہیں۔

محمد علی آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی آواز، ان کے مکالمے اور ان کے یادگار کردار آج بھی پاکستانی فلمی تاریخ کا ایک خوبصورت باب ہیں۔
آپ کو یاد تو ہوگا کہ بچپن میں شاید جمعرات کی رات کو 10 بجے خبرنامہ کے بعد فلم پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کی جاتی تھی کیا خوبصورت دور تھا۔
آج ہم بات کرتے ہیں پاکستانی فلم انڈسٹری کے ایک عظیم اور لیجنڈ اداکار Muhammad Ali کی، جنہوں نے اپنی شاندار اداکاری، باوقار شخصیت اور یادگار کرداروں کے ذریعے برصغیر کے سینما میں ایک انمٹ مقام حاصل کیا۔
محمد علی 19 اپریل 1931ء کو رام پور (برصغیر) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوا اور انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا، جہاں سے ان کی فنی صلاحیتوں کو پہچان ملی اور پھر وہ فلمی دنیا کا حصہ بنے۔
انہوں نے 1960 اور 1970 کی دہائی میں پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا اور سینکڑوں فلموں میں یادگار کردار ادا کیے۔ ان کی مشہور فلموں میں جذباتی، رومانوی اور سماجی موضوعات پر مبنی کئی کلاسک فلمیں شامل ہیں، جنہوں نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے سپر اسٹارز میں شامل کر دیا۔ ان کی جوڑی اداکارہ Zeba کے ساتھ بہت مقبول رہی اور دونوں کو پاکستانی سینما کی سنہری جوڑی کہا جاتا تھا۔
محمد علی اپنی باوقار آواز، سنجیدہ اداکاری اور جذباتی مکالموں کی ادائیگی کی وجہ سے بہت پسند کیے جاتے تھے۔ وہ صرف ایک اداکار نہیں بلکہ ایک مکمل فنکار تھے جنہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری کو نئی پہچان دی۔
انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال علی زیب بنگلہ لاہور میں گزارے، جہاں وہ 19 مارچ 2006ء کو وفات پا گئے۔ ان کی قبر صوفی بزرگ حضرت میاں میر کے نام منسوب قبرستان لاہور میں واقع ہے۔
آج بھی محمد علی کی فلمیں اور کردار پاکستانی سینما کے سنہری دور کی یاد دلاتے ہیں اور ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا
اللہ کریم انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائیں۔۔۔

Leave a Comment