
بھگت سنگھ کی آبائی حویلی خریدنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی پیشکش ہوئی، مگر اس کی دیکھ بھال کرنے والے پاکستانی خاندان نے انکار کر دیا۔ اردو پوائنٹ کی رپورٹ میں حویلی کے موجودہ نگہبان ثاقب ورک یہ بات بتاتے ہوئے اس انکار کی وجہ بھی بیان کرتے ہیں: ان کے نزدیک یہ تاریخی جگہ بزرگوں سے ملنے والی ایک امانت ہے، جس کی حفاظت کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ ایک ایسے دور میں جب پرانی عمارتیں اکثر اپنی زمین کی قیمت کے سامنے بے وقعت ہو جاتی ہیں، اس خاندان کا اپنی تاریخ سے یہ تعلق احترام کے قابل ہے۔
یہ حویلی فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے چک نمبر 105 گ ب، بنگے میں واقع ہے۔ یہی وہ گاؤں ہے جہاں برصغیر کی جدوجہدِ آزادی کے معروف انقلابی بھگت سنگھ نے جنم لیا اور اپنے بچپن کے دن گزارے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1947ء میں یہ گھر ثاقب ورک کے دادا فضل قادر ورک کو الاٹ ہوا، جو ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ یوں ایک خاندان کا چھوڑا ہوا گھر دوسرے خاندان کے حصے میں آیا اور وقت کے ساتھ اس کی تاریخی یادوں کی حفاظت بھی ان کی زندگی کا حصہ بن گئی۔ ورک خاندان کو اس گھر کی الاٹمنٹ اور ان کی جانب سے اس کی دیکھ بھال کا ذکر انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹ میں بھی موجود ہے۔
ثاقب ورک اردو پوائنٹ کو بتاتے ہیں کہ 1992ء میں ان کے دادا کی وفات کے بعد ان کے والد چوہدری محمد اقبال ورک نے اس تاریخی مقام کی نگہبانی جاری رکھی۔ ثاقب خود 2005ء سے اپنے والد کا ہاتھ بٹانے لگے اور 2016ء میں والد کے انتقال کے بعد اپنے چھوٹے بھائی طیب اقبال ورک کے ساتھ یہ ذمہ داری سنبھالی۔ اس طرح اس گھر سے ان کے خاندان کا تعلق کئی نسلوں پر پھیل گیا۔ دادا کے بعد بیٹے اور پھر پوتوں نے ان کمروں اور ان سے جڑی یادوں کو محفوظ رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
حویلی کے دو تاریخی کمروں کو ایک تصویری گیلری کی شکل دی گئی ہے، جہاں آنے والے بھگت سنگھ کی زندگی اور ان کے دور سے متعلق تصاویر دیکھ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہاں تقریباً 400 تصاویر جمع کی گئی ہیں اور ان کے خلاف درج ہونے والی تاریخی ایف آئی آر کی نقل بھی آویزاں ہے۔ ان تصاویر کو جمع کرنے میں جسی سنگھ لائلپوریہ کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان کمروں میں کھڑا شخص تصویروں کے ذریعے اس نوجوان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے واقف ہوتا ہے جسے 23 مارچ 1931ء کو صرف 23 برس کی عمر میں لاہور میں پھانسی دے دی گئی تھی۔
رپورٹ میں اس گھر کے اندر بھگت سنگھ کے خاندان سے منسوب چرخہ، اناج پیسنے کی پتھر کی چکی، مٹی کا چولہا اور لوہے کی پرانی تجوری بھی دکھائی گئی ہے۔ صحن میں موجود بیری کے درخت کے بارے میں نگہبان بتاتے ہیں کہ اسے بھگت سنگھ نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔ ان چیزوں کی اہمیت سمجھنے کے لیے ذرا اس زمانے کے ایک گھر کا تصور کیجیے: صحن میں بیٹھا خاندان، چرخہ کاتتی ماں، چولہے پر پکتی روٹیاں اور انہی کمروں میں پلتا بڑھتا ایک بچہ۔ یہی گھریلو نشانیاں تاریخ کے کسی بڑے نام کو ہماری طرح ایک گھر، ایک خاندان اور ایک بچپن رکھنے والے انسان کے طور پر سامنے لاتی ہیں۔
ثاقب ورک کے مطابق اس تاریخی جگہ کو خریدنے کے لیے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے 50 کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ اس فیصلے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کو ملنے والے اس ورثے کو قیمت لگا کر بیچ دینا انہیں اخلاقی طور پر درست محسوس نہیں ہوتا۔ ان کے بیان میں ایک امانت سے وابستگی جھلکتی ہے؛ ایسی وابستگی جو ایک بڑی مالی پیشکش کے باوجود قائم رہی۔
اس جگہ کو دیکھنے کے لیے مختلف ملکوں سے لوگ آتے ہیں۔ ثاقب ورک کے بقول ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب آنے والے بہت سے سکھ زائرین اس حویلی کا بھی رخ کرتے ہیں، اور بعض مواقع پر سینکڑوں مہمان یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ رپورٹ میں بھگت سنگھ کے بھانجے کی آمد اور یہاں قیام کا بھی ذکر ہے۔ ورک خاندان ان مہمانوں کی میزبانی کرتا ہے اور ثاقب کے مطابق روزمرہ دیکھ بھال کے لیے ملازمین کا خرچ بھی خود اٹھاتا ہے۔ کسی دور سے آنے والے شخص کے لیے اپنے بزرگوں سے جڑی جگہ کا محفوظ ملنا کتنی بڑی خوشی ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس کے اپنے خاندان کی یادیں کسی سرحد کے دوسری طرف رہ گئی ہوں۔
ثاقب ورک اور ان کے خاندان کی یہ کاوش اس لیے بھی قابلِ قدر ہے کہ تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل وقت، توجہ اور خرچ درکار ہوتا ہے۔ کسی پرانے دروازے کی مرمت کروانا، کمروں کو سنبھالنا، تصاویر محفوظ رکھنا اور آنے والوں کے لیے جگہ کھلی رکھنا روزمرہ کے وہ کام ہیں جن سے یادیں اگلی نسل تک پہنچتی ہیں۔ اس خاندان نے برسوں کی نگہبانی سے ان دو کمروں کو ان لوگوں کے لیے محفوظ رکھا ہے جو بھگت سنگھ کی زندگی، اپنے خطے کے ماضی اور اپنے بزرگوں کی نشانیوں کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں۔
ماخذ: اردو پوائنٹ کی دستاویزی رپورٹ اور ثاقب ورک صاحب کی گفتگو
