پورے 15سال بکریاں چرا کر عمرہ کےلیے پیسے جمع کرنے والا چرواہا۔۔۔

بلوچستان کے ضلع حَب کے ایک دور افتادہ گاؤں گوٹھ حاجی رحیم سے تعلق رکھنے والے 82 سالہ چرواہے عبدالقادر بخش نے عمرہ ادا کرنے کے لیے مسلسل 15 سال تک بکریاں چرا کرکے رقم جمع کی۔ نہ ان کے پاس کوئ دولت تھی، نہ کوئی موبائل فون اور نہ ہی سفر میں رہنمائی کرنے والا کوئی شخص، مگر دل میں خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت کی شدید تڑپ ضرور تھی۔

کمزور بینائی، نحیف جسم، ننگے پاؤں اور ہاتھ میں چھڑی لیے عبدالقادر بخش صرف بلوچی زبان بولتے ہوئے تنہا سعودی عرب پہنچ گئے۔ اجنبی ملک، نامانوس راستے اور زبان نہ سمجھنے کی وجہ سے انہیں مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ تک پہنچنے کے لیے کافی دیر بھٹکنا پڑا۔ اس مشکل وقت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: ’’یا اللہ! میں اس جگہ کو نہیں جانتا، میرا یہاں کوئی رہنما نہیں، تو ہی میرا رہنما ہے۔ مجھے راستہ دکھا دے۔‘‘

عبدالقادر بخش کے مطابق وہ چلتے رہے، راستہ تلاش کرتے رہے اور بالآخر جب پہلی مرتبہ خانہ کعبہ ان کی نگاہوں کے سامنے آیا تو ان کی خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔ برسوں کی محنت، انتظار اور قربانی کا خواب حقیقت بن چکا تھا۔ اس کے بعد جب وہ مدینہ منورہ پہنچے اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

مسجد نبوی میں سادہ لباس، پگڑی پر لپٹی لمبی ململ کی چادر، ہاتھ میں چھڑی اور چہرے پر عاجزی لیے تنہا چلتے عبدالقادر بخش کی ویڈیو کسی نامعلوم شخص نے بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی اور اسے دس لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔ عرب صارفین ان کی سادگی، عاجزی اور معصومیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بعض نے ان کا موازنہ تاریخ کی معروف صالح شخصیات سے کیا۔ سعودی ولی عہد کے مشیر ترکی آل الشیخ نے بھی ان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ ان تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں مشہور ہوجانے والے عبدالقادر بخش کے پاس اپنا موبائل فون تک نہیں تھا۔ وطن واپس پہنچنے کے بعد انہوں نے پہلی مرتبہ اپنی وائرل ویڈیو عرب نیوز کے نمائندے سے گفتگو کے دوران اپنے چھوٹے سے جھونپڑی نما گھر میں دیکھی۔

عبدالقادر بخش کا کہنا تھا کہ ان کی تمام پریشانیاں ختم ہوچکی ہیں اور ان کا دل مکمل طور پر مطمئن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت نصیب کردی، اس لیے وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت انسان سمجھتے ہیں۔

اپنے گاؤں واپس آنے کے باوجود ان کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ اب اس 82 سالہ چرواہے کی سب سے بڑی خواہش حج ادا کرنا ہے اور وہ ایک مرتبہ پھر بکریاں چرا کر رقم جمع کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ عبدالقادر بخش کی زندگی اس حقیقت کی خوبصورت مثال ہے کہ وسائل کم ہوں، راستے مشکل ہوں اور دنیا میں کوئی رہنما بھی نہ ہو تو سچی تڑپ، مضبوط یقین اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا انسان کو اس کی منزل تک ضرور پہنچا دیتا ہے۔

Leave a Comment