
عدالت کی عمارت سامنے تھی، لیکن 96 سالہ بزرگ خاتون کے لیے اس کی چند سیڑھیاں چڑھنا بھی ممکن نہیں تھا… وہ اپنا حق وصول کرنے آئی تھیں، مگر بڑھاپے اور جسمانی کمزوری نے انہیں گاڑی میں ہی بیٹھے رہنے پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعہ بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر دوسہ کا ہے۔ بزرگ خاتون کا نام سمپتی دیوی شرما ہے۔ اہلِ خانہ انہیں عدالتی معاوضے کا چیک وصول کرنے کے لیے گاڑی میں لے کر آئے تھے۔ متعلقہ عدالت پہلی منزل پر تھی، جہاں تک پہنچنا ان کی جسمانی حالت کے باعث مشکل تھا۔
اس معاوضے کے پیچھے ایک پرانے حادثے اور طویل عدالتی کارروائی کی داستان تھی۔ 7 جنوری 2011 کو صبح تقریباً تین بجے ایک اسکارپیو گاڑی لالسوت سے دہلی جا رہی تھی۔ الور–بھیواڑی ہائی وے پر جاجور کے قریب وہ سڑک کنارے کھڑے ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں سنتوش کمار شرما اور جگدیش پرساد موقع پر جان سے گئے، جبکہ تین دوسرے افراد شدید زخمی ہوئے۔
سنتوش کمار شرما کی وفات کے بعد ان کے قانونی وارثوں نے معاوضے کے لیے مقدمہ کیا۔ اس مقدمے میں ان کی اہلیہ، بیٹی، بیٹے اور بزرگ خاتون سمپتی دیوی شرما شامل تھیں۔ موٹر ایکسیڈنٹ کلیمز ٹریبونل نے 2015 میں فیصلہ دیا، پھر معاملہ اپیلوں کے ذریعے راجستھان ہائی کورٹ تک پہنچا۔ 6 مئی 2026 کو ہائی کورٹ کی جے پور بنچ نے خاندان کے معاوضے میں اضافہ کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی حکم کے بعد بیمہ کمپنی کی جمع کرائی گئی رقم کی ادائیگی کا مرحلہ آیا تو سمپتی دیوی شرما بھی اپنا چیک وصول کرنے پہنچیں۔ لیکن عدالت کے احاطے میں پہنچ جانے کے باوجود ان کے لیے پہلی منزل تک جانا ممکن نہیں تھا۔ جب دوسہ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کیشو کوشک کو ان کی حالت کا علم ہوا تو وہ خود اپنے چیمبر سے باہر نکلے، سیڑھیاں اترے اور گاڑی میں بیٹھی بزرگ خاتون کے پاس آ گئے۔
عدالتی عملے کی موجودگی میں گاڑی کے اندر ہی ضروری کارروائی مکمل کرائی گئی۔ فارم پر خاتون کا انگوٹھا لگوایا گیا، اور پھر جج کیشو کوشک نے اپنے ہاتھوں سے انہیں معاوضے کا چیک دیا۔ یوں بزرگ خاتون کو سیڑھیاں چڑھنے کی تکلیف اٹھائے بغیر اپنا حق وصول کرنے کی سہولت مل گئی۔
اخباری رپورٹ کے مطابق، جج کے اس رویّے سے سمپتی دیوی شرما جذباتی ہو گئیں۔ چیک وصول کرنے پر انہوں نے جج کو دعائیں دیں اور آشیرواد دیا۔ ایک طرف عمر رسیدہ خاتون تھیں، دوسری طرف ان کی مجبوری سمجھ کر خود ان تک پہنچنے والا ایک جج… اس منظر کی خوبصورتی اسی احترام میں تھی۔
رپورٹس کے مطابق، کیشو کوشک پہلے بھی جسمانی طور پر عدالت کی پہلی منزل تک آنے سے قاصر بزرگوں اور دوسرے افراد کی سہولت کے لیے خود نیچے آتے رہے تھے۔ بڑھاپے میں انسان کے لیے کبھی چند قدم بھی بہت بھاری ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں کسی کا اس کی مجبوری سمجھ لینا، اس کے پاس آ جانا اور عزت کے ساتھ اس کا کام کر دینا دل کو چھو لیتا ہے۔
